پاکستان گیس کی فراہمی میں اضافے کے باعث پیدا ہونے والی صورتِ حال کے پیش نظر اضافی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے کارگو فروخت کرنے کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔ ایک سرکاری پریزنٹیشن اور معاملے سے واقف ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار کے مطابق یہ صورتحال مقامی پیداواری اداروں کو سالانہ 378 ملین ڈالر تک کے نقصانات سے دوچار کر سکتی ہے۔
ایک دوسرے حکومتی اہلکار نے بتایا کہ پاکستان کے پاس قطر سے درآمد کردہ کم از کم تین اضافی ایل این جی کارگو موجود ہیں جن کے فوری استعمال کی ضرورت نہیں اور فی الحال ملک میں قدرتی گیس مقامی صارفین کو نمایاں رعایت پر فروخت کی جا رہی ہے۔
توانائی کے تحقیقی ادارے ایمبر (Ember) کے اعداد و شمار کے مطابق، گیس سے بجلی پیدا کرنے والے بجلی گھروں کی پیداوار، جو ملک میں ایل این جی کے استعمال کا بڑا حصہ رہی ہے، مسلسل تین سال (اختتام 2024 تک) گراوٹ کا شکار ہے جبکہ اس کے برعکس سستی شمسی توانائی کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔
اس صورتحال نے ایندھن کے مقامی پیدا کنندگان کو اپنی پیداوار کم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
سرکاری تیل و گیس کمپنی او جی ڈی سی ایل نے صنعت اور حکومت کو دی گئی ایک پریزنٹیشن میں کہا ہے کہ پاکستان فی الحال ایل این جی کارگو کرائے کے ٹینکروں میں منتقل کرنے، سمندر میں ذخیرہ کرنے اور بعد ازاں فروخت کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے مطابق گیس کے نیٹ ورک میں اضافی ایل این جی کی موجودگی نے گزشتہ 18 ماہ کے دوران مقامی تلاش و پیداوارکی کمپنیوں کی پیداوار پر نمایاں منفی اثر ڈالا ہے جس کے نتیجے میں مقامی فراہمی کو محدود کرنا پڑا۔
پریزنٹیشن جو 29 مئی کو تیار کی گئی اور رائٹرز نے اس کا جائزہ لیا، کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ 12 ماہ میں مقامی صنعت کو 378 ملین ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ قطر انرجی کے ساتھ پاکستان کے طویل المدتی درآمدی معاہدے کارگو کی دوبارہ فروخت کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں۔ ایک حکومتی اہلکار کے مطابق ملک اب بھی اس پہلو پر غور کر رہا ہے۔
عام طور پر قطر کے طویل مدتی معاہدوں میں منزل کی شق (ڈسٹی نیشن کلاز) شامل ہوتی ہے، جو خریدار کو مخصوص مقامات کے علاوہ کارگو فروخت کرنے سے روکتی ہے۔
قطر انرجی نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
پاکستان پہلے ہی قطر سے معاہدے کے تحت طے شدہ پانچ ایل این جی کارگو مالیاتی جرمانے کے بغیر موخر کر چکا ہے، جن کی ترسیل 2025 سے 2026 تک منتقل کر دی گئی ہے کیونکہ ملک اس وقت اضافی صلاحیت سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستان کے وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے مذکورہ پریزنٹیشن پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ قطر کے ساتھ معاہدوں پر ازسرِ نو بات چیت ایک ”پیچیدہ“ عمل ہے، جو کم از کم ایک سال کا وقت لے سکتا ہے، اور اس عمل کو شروع کرنے کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی تک نہیں کیا گیا۔
علی پرویز ملک نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ اگرچہ قطر کے ساتھ موجودہ معاہدہ پاکستان کو کارگو مسترد کرنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن ایسا کرنے پر جرمانے اور دیگر پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گیس کی فراہمی میں موجودہ اضافی صورتحال کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کئی گیس سے چلنے والے بجلی گھر، جو پہلے لازمی آپریشن (must-run) کی بنیاد پر کام کر رہے تھے، اب سسٹم سے نکال دیے گئے ہیں۔
او جی ڈی سی ایل نے اپنی پریزنٹیشن میں کہا کہ یہ توقع کی جا رہی تھی کہ گرمیوں کے موسم میں گیس کی غیر معمولی طلب پیدا ہوگی، لیکن موجودہ رجحان اس کے برعکس ہے۔


Comments
Comments are closed.