BR100 Increased By (0.38%)
BR30 Increased By (0.58%)
KSE100 Increased By (0.46%)
KSE30 Increased By (0.35%)
BAFL 58.30 Increased By ▲ 0.14 (0.24%)
BIPL 27.24 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 34.79 Increased By ▲ 0.39 (1.13%)
CNERGY 12.77 Decreased By ▼ -0.34 (-2.59%)
DFML 18.58 Increased By ▲ 0.18 (0.98%)
DGKC 215.30 Increased By ▲ 1.64 (0.77%)
FABL 100.00 Increased By ▲ 0.44 (0.44%)
FCCL 58.09 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
FFL 16.34 Increased By ▲ 0.11 (0.68%)
GGL 24.17 Increased By ▲ 0.19 (0.79%)
HBL 332.00 Decreased By ▼ -6.16 (-1.82%)
HUBC 214.05 Increased By ▲ 0.69 (0.32%)
HUMNL 10.65 Increased By ▲ 0.07 (0.66%)
KEL 7.47 Increased By ▲ 0.04 (0.54%)
LOTCHEM 27.77 Increased By ▲ 0.10 (0.36%)
MLCF 102.80 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
OGDC 320.55 Increased By ▲ 1.63 (0.51%)
PAEL 43.25 Increased By ▲ 0.15 (0.35%)
PIBTL 16.71 Increased By ▲ 0.08 (0.48%)
PIOC 276.77 Increased By ▲ 3.77 (1.38%)
PPL 233.35 Increased By ▲ 3.90 (1.7%)
PRL 69.13 Decreased By ▼ -1.67 (-2.36%)
SNGP 103.95 Decreased By ▼ -0.63 (-0.6%)
SSGC 27.55 Increased By ▲ 0.14 (0.51%)
TELE 8.59 Increased By ▲ 0.06 (0.7%)
TPLP 15.57 Decreased By ▼ -0.19 (-1.21%)
TRG 60.44 Increased By ▲ 0.15 (0.25%)
UNITY 11.77 Increased By ▲ 0.05 (0.43%)
WTL 1.20 No Change ▼ 0.00 (0%)

چین نے پاکستان کے ذمے واجب الادا 3.4 ارب ڈالر کا قرض رول اوور کردیا ہے جو دیگر حالیہ کمرشل اور کثیر الجہتی قرضوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو 14 ارب ڈالر تک بڑھادیں گے۔ یہ بات وزارت خزانہ وابستہ ایک ذرائع نے اتوار کو بتائی ہے۔

ذرائع کے مطابق بیجنگ نے 2.1 ارب ڈالر کے قرضے، جو گزشتہ تین سالوں سے پاکستان کے مرکزی بینک کے ذخائر میں تھے، کی مدت میں توسیع کی ہے اور مزید 1.3 ارب ڈالر کے کمرشل قرضے کی ری فنانسنگ کی ہے جو اسلام آباد دو ماہ قبل واپس کر چکا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے تجارتی بینکوں سے ایک ارب ڈالر اور کثیرالطرفہ مالی اعانت سے 500 ملین ڈالر بھی موصول ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے ذخائر کو آئی ایم ایف کے ہدف کے مطابق لے آئے گا۔

یہ قرضے، خاص طور پر چین کی جانب سے رول اوور کیا گیا قرض، پاکستان کے کمزور غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے کے لیے انتہائی اہم ہیں، جنہیں آئی ایم ایف نے موجودہ مالی سال کے اختتام پر 30 جون تک 14 ارب ڈالر سے زائد رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی معیشت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ کے تحت جاری اصلاحات کے ذریعے مستحکم ہوئی ہے۔

Comments

Comments are closed.