بزنس مین گروپ کے سرپرست اعلیٰ زبیر موتی والا اور کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر محمد جاوید بلوانی نےاقتصادی رابطہ کمیٹی کے اگلے ہونے والے اجلاس میں صنعتی استعمال کے لیے گیس ٹیرف میں ممکنہ اضافےکی تجویز کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے اسےغیرمنطقی اور پاکستان کے پہلے سے مشکلات کا شکارصنعتی شعبے کیلئے تباہ کن قرار دیا، بالخصوص ایسےوقت میں جب پیداواری لاگت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہےاور برآمدات شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
زبیر موتی والا اور جاوید بلوانی نے زور دیا کہ موجودہ توانائی مارکیٹ کی صورتحال کے تناظر میں گیس ٹیرف میں اضافے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ عالمی سطح پر برینٹ کروڈ آئل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اور ایس این جی پی ایل کے نظام میں پہلے ہی درآمد شدہ آر ایل این جی کا فاضل ذخیرہ موجود ہےجس میں سے تقریباً 300سے 400 ایم ایم سی ایف ڈی استعمال نہیں ہو رہی۔
یہ فاضل گیس اس لیے موجود ہے کیونکہ بھاری ٹیکسز اور لیویز کی وجہ سے پاور اور کیپٹیو سیکٹرز مہنگے داموں آر ایل این جی خریدنے سے گریز کررہے ہیں اس کے نتیجے میں وسائل کا غیر مؤثر استعمال ہورہا ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ صنعتی شعبے کو سزا دینے کے بجائے گیس کی فراہمی کے انتظامات کو بہتر بنائےاورقیمتوں کا تعین منصفانہ انداز میں کرے۔
انہوں نےکہا کہ اگرچہ صرف 80 سے100 انڈیپینڈینٹ پاور پروڈیوسرز ہی پروسیس گیس استعمال کرتے ہیں لیکن یہ تسلیم کرنا انتہائی ضروری ہے کہ 8 ہزار سے زائد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کا روزگار بھی اس اہم وسائل پرمنحصر ہے،گیس ٹیرف میں کسی بھی قسم کا اضافہ ایس ایم ایز سیکٹر کو شدید متاثر کرے گا جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے حالانکہ ایس ایم ایز سیکٹر ملکی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، گیس قیمتوں میں اضافے کے بجائے ایک بہتر پالیسی یہ ہوگی کہ پراسیس گیس کا ٹیرف کم از کم 20 فیصد کم کیا جائے تاکہ ایس ایم ایزآپریشنل رہیں اور معیشت میں مؤثر انداز میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے وقت میں جب تاجر برادری پہلے ہی موجودہ بجٹ میں نافذ کردہ سخت ٹیکس اقدامات سے دباؤ میں ہے لہٰذا گیس ٹیرف میں اضافہ ان کے مسائل کو مزید بڑھا دے گا چونکہ ملک میں مقامی گیس کی وافر مقدار موجود ہے اس لیے یہی بہتر ہوگا کہ اسے کم ٹیرف پر فراہم کیا جائے۔
زبیر موتی والا اور جاوید بلوانی نے نشاندہی کی کہ اوگرا نے 20 مئی 2025 کے اپنے فیصلے میں ایس ایس جی سی کے لیے گیس ٹیرف میں 103.95 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی نمایاں کمی کرتے ہوئے نئی قیمت تقریباً 1,658.56 روپے مقرر کی تھی، یہ فیصلہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی اور لاگت کی حقیقی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ان حالات میں ٹیرف میں اضافے میں صنعتی سرگرمیوں، پیداوار اور برآمدات کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا، اس اقدام سےمہنگائی بڑھے گی،بے روزگاری میں اضافہ ہوگا اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں مزید کمی آئے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.