اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جنوری تا مارچ کی سہ ماہی ادائیگیوں کے نظام سے متعلق رپورٹ — جو محض 3 ماہ تک محدود ہے اور جسے انتہائی قلیل المدتی ہی کہا جاسکتا ہے — میں چند تشویشناک مگر حیران کن نہیں، اعدادوشمار سامنے آئے ہیں: پاکستان میں ریٹیل سطح کی 89 فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹل ذرائع سے کی جاتی ہیں، لیکن یہ صرف 29 فیصد مجموعی مالیت پر مشتمل ہیں۔ اس کے برعکس بینک برانچوں اور برانچ لیس بینکاری ایجنٹس کے ذریعے ہونے والی کاغذی اور اوور دی کاؤنٹر (او ٹی سی) ادائیگیاں صرف 11 فیصد لین دین کی نمائندگی کرتی ہیں مگر ان کی مالیت مجموعی لین دین کے 71 فیصد تک پہنچتی ہے۔
یہ فرق کسی حد تک غیر رسمی معیشت کی موجودگی سے سمجھا جا سکتا ہے، جس کا حجم اندازاً رسمی معیشت کے تقریباً 50 فیصد کے برابر بتایا جاتا ہے۔ تاہم یہ محض تخمینہ ہی ہے، کیونکہ ایسے معاشی سرگرمیوں کی درست پیمائش، جو حکومتی شماریاتی نظام کی رسائی سے باہر ہوں، ایک نہایت دشوار عمل ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ہر سال زیادہ سے زیادہ ریونیو جمع کرنے کی اپنی کوششوں میں مسلسل اس امر پر توجہ مرکوز رکھتا ہے کہ اگر غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے تو کتنا اضافی ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے،تاہم یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جانی چاہیے کہ غیر رسمی شعبہ لاکھوں پاکستانیوں کو روزگار فراہم کرتا ہے — ایسے افراد جو رسمی معیشت کی محدود گنجائش کے باعث وہاں کھپ نہیں سکتے۔
اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق جنوری سے مارچ 2025 کے دورا فوری ادائیگیوں کے نظام راست کے ذریعے 371 ملین ٹرانزیکشنز کی گئیں جن کی مالیت 8.5 کھرب روپے تھی جبکہ ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ سسٹم (آر ٹی جی ایس) کے تحت 1.5 ملین ٹرانزیکشنز میں 347 کھرب روپے کی رقم منتقل کی گئی۔ یہ اعداد و شمار بلاشبہ قابلِ توجہ ہیں، تاہم یہ جاننا بھی مفید ہوتا کہ ان میں سے کتنی ٹرانزیکشنز غیر رسمی شعبے کی جانب سے کی گئیں۔
ہیرنانڈو ڈی سوتو کا کہنا تھا کہ جن ممالک میں غیر رسمی معیشت کا حجم نمایاں ہوتا ہے، وہاں معاشی اعداد و شمار کبھی بھی مکمل طور پر قابلِ اعتبار نہیں ہو سکتے، کیونکہ غیر رسمی شعبہ لین دین کے لیے زیادہ تر نقد رقم یا کاغذی ذرائع کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے مؤثر انداز میں یہ بھی واضح کیا کہ غیر رسمی معیشت ایسی صورتِ حال پیدا کرتی ہے جہاں اس کی سرگرمیوں کے اثرات کا اندازہ صرف بالواسطہ طریقوں سے ہی لگایا جا سکتا ہے، وہ بھی تاخیر سے دستیاب معلومات کی بنیاد پر کیا جاسکتا ہے۔
تاہم پاکستان میں نقد یا کاغذی لین دین کے زیادہ استعمال کی وجہ صرف کم شرح خواندگی نہیں بلکہ اس کی ایک بڑی وجہ وہ بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل فراڈ بھی ہیں جن کی میڈیا میں بارہا نشاندہی کی جاتی ہے، ان فراڈز کی بنیادی وجہ ڈیجیٹل سیکیورٹی میں ناکافی سرمایہ کاری ہے جس کے باعث عوام کا اعتماد ڈیجیٹل ذرائع پر مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکا۔
ڈیجیٹل فراڈ کے دو حالیہ اور تشویشناک واقعات بزرگ پنشنرز اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت کفالت کے مستحقین سے متعلق ہیں، جنہیں سہ ماہی نقد رقوم فراہم کی جاتی ہیں۔ اس وقت اگر کوئی مستحق بی آئی ایس پی میں فراڈ کی شکایت کرتا ہے تو عام طور پر شکایت یہ ہوتی ہے کہ ایف آئی اے اس پر فعال انداز میں کارروائی نہیں کرتی، کیونکہ متعلقہ رقم نسبتاً معمولی ہوتی ہے، تاہم اگر حکومت تعلیم کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں تحفظ کو یقینی بنانے پر مناسب سرمایہ کاری کرے تو اس لیکج کو روکا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں اکثر انٹرنیٹ سروسز کی معطلی — جو بظاہر سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کی جاتی ہے — ڈیجیٹل خدمات کے قابلِ بھروسہ ہونے کو متاثر کرتی ہے ، اس طرزِ عمل پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگرچہ پاکستان میں مالیاتی لین دین پر ڈیجیٹل اثرات میں واضح اضافہ ہو رہا ہے، تاہم اس رجحان کو مستحکم بنانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان اقدامات میں سیکیورٹی خدشات کا مؤثر تدارک شامل ہونا چاہیے — مگر اس کا حل انٹرنیٹ سروس معطل کرنا نہیں، کیونکہ اس سے نہ صرف آن لائن کاروبار کرنے والوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے بلکہ مجموعی ڈیجیٹل اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس کے بجائے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے سیکیورٹی کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ ڈیجیٹل معیشت کا فروغ پائیدار بنیادوں پر ممکن ہوسکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.