درآمدات کا دباؤ بتدریج بڑھتا جا رہا ہے۔ ادائیگیوں کی سخت صورتحال جنوری سے جاری ہے اور اب یہ معمول بنتی جارہی ہے۔ تاہم بڑھتی ہوئی بےچینی اب پاکستانی روپے (پی کے آر ) کی قدر میں کمی کا سبب بن رہی ہے۔ ایک پُرامید ٹریژری افسر نے اسٹیٹ بینک کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر کی قلت نہیں بس مہنگا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مارکیٹ میں کسی قسم کی گھبراہٹ نہیں ہے۔
تاہم بینکوں کے درمیان جذبات مختلف ہیں۔ ایک اور بینک کے سینئر ایگزیکٹو، جو شدید دباؤ کا شکار ہے نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیے تو یہ صورت حال گھبراہٹ والی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم تیل کی ایل سیز 287 سے 288 روپے کے نرخ پر کلیئر کررہے ہیں کیونکہ ہمیں ترسیلات کو راغب کرنے کے لیے بہتر ریٹ دینے پڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں مزید کمی ناگزیر ہے۔
بینک ٹریژریز میں پائے جانے والے یہ ملے جلے جذبات اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی بالواسطہ مداخلت سے جنم لیتے ہیں جو کہ گزشتہ ایک سال سے جاری ہے۔ اسٹیٹ بینک ایک طرف سرپلس ڈالرز بینکوں سے خرید لیتا ہے تو دوسری جانب ضرورت مند بینکوں کی رسائی محدود کر دیتا ہے، جس کے باعث وہ اپنی ادائیگیوں کا بندوبست کرنے کے لیے اضافی زرِ مبادلہ کے ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایک متاثرہ بینک کے سینئر ایگزیکٹو نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک گویا ہماری کنپٹی پر بندوق رکھے کھڑا ہے۔
اس کے برعکس پُرامید بینکر نے اسٹیٹ بینک کے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک پُرسکون اور سنجیدہ انداز میں معاملات چلارہا ہے،لہٰذا گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جلد ہی زرمبادلہ ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے جس سے روپے کو استحکام ملے گا اور اس کی قدر میں مزید کمی رک جائے گی۔
تاہم ہر کوئی اس مؤقف سے متفق نہیں۔ ایک اور بینکر نے خبردار کیا کہ اسٹیٹ بینک کی دباؤ ڈالنے والی حکمت عملی کی ایک حد ہے، بالآخر قدرتی مارکیٹ کے عوامل اپنا اثر دکھائیں گے۔
اگرچہ کچھ انتہائی آراء بھی موجود ہیں، لیکن بیشتر ٹریژری ماہرین محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ عمومی رائے یہ ہے کہ شرحِ سود اپنی نچلی ترین سطح تک آ چکی ہے جو موجودہ مہنگائی کے رجحانات سے ہم آہنگ ہے۔ اگر مستقبل میں مزید کمی ہوئی بھی، تو وہ 100 بیسس پوائنٹس سے تجاوز نہیں کرے گی۔ یک رقمی شرحِ سود کی کوئی توقع نہیں اور روپے کی بتدریج قدر میں کمی کو ناگزیر سمجھا جارہا ہے۔
ایک تیسرے بینکر کے مطابق ماضی میں اسٹیٹ بینک روزانہ 5 پیسے تک روپے کی قدر میں کمی کی اجازت دیتا تھا،اب یہ حد بڑھا کر 15 پیسے یومیہ کردی گئی ہے۔،یہ تدریجی اور سوچے سمجھے انداز کی حکمت عملی ہے، جو گھبراہٹ سے بچاتی ہے اور کرنسی کی قدر میں کمی کو مؤثر طریقے سے قابو میں رکھتی ہے۔ یہ پالیسی بظاہر دانشمندانہ دکھائی دیتی ہے، کیونکہ اس وقت اوپن مارکیٹ میں نہ کوئی غیر معمولی دباؤ ہے اور نہ ہی کرنسی کی بھاگ دوڑ کے آثار۔ درآمد کنندگان پُرامن ہیں اور برآمد کنندگان بدستور محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔
ایک اور بینکر نے نشاندہی کی کہ ترسیلاتِ زر کلیدی حیثیت رکھتی ہیں ۔ اگر ملک میں زرمبادلہ کی مضبوط آمد جاری رہی تو مارکیٹ باآسانی چلتی رہے گی، تاہم موجودہ بجٹ میں ترسیلاتِ زر کے لیے کسی واضح معاون اقدام کا ذکر نہیں ہے۔ اگرچہ بجٹ دستاویز میں یہ شق شامل نہیں، مگر وزیرِ خزانہ نے بینکوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ تعاون جاری رہے گا۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر نے بھی حالیہ بیان میں اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے سہولیات کو کسی نہ کسی صورت میں برقرار رہنے کی تصدیق کی ہے۔
صورتحال جلد واضح ہو جائے گی تاہم اگر ترسیلاتِ زر کے لیے مضبوط معاونت فراہم نہ کی گئی تو کرنسی پر دباؤ میں تیزی آسکتی ہے۔ فی الوقت ریئل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ (ریئر) 97 سے 98 کے درمیان ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ روپے کی قدر غیر فطری طور پر زیادہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر گھٹ کر 9 ارب ڈالر رہ گئے ہیں، اگرچہ گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ جون کے اختتام تک یہ ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ فی الحال امید محتاط ہے اور سب کی نظریں صورتحال پر لگی ہوئی ہیں۔


Comments
Comments are closed.