خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا جو گزشتہ روز کے منافع کو آگے بڑھاتے ہوئے ریکارڈ کیا گیا۔ اس کی وجہ امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں توقع سے زیادہ کمی ہے جو مضبوط طلب کا اشارہ دیتی ہے، تاہم ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اور مشرق وسطیٰ میں استحکام سے متعلق خدشات کے باعث سرمایہ کار محتاط دکھائی دیے۔
برینٹ خام تیل کے سودے 15 سینٹ یا 0.2 فیصد اضافے سے 67.83 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 20 سینٹ یا 0.3 فیصد بڑھ کر 65.12 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔
بدھ کو دونوں بینچ مارک خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 1 فیصد اضافہ ہوا، جس سے ہفتے کے اوائل میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ ہوا۔ اس بہتری کی وجہ وہ تازہ اعداد و شمار بنے جنہوں نے امریکی منڈی میں مستحکم طلب کی عکاسی کی۔
نومورا سیکیورٹیز کے ماہر اقتصادیات یوکی تاکاشیما نے کہا کہ کچھ خریدار امریکی ہفتہ وار اعداد و شمار میں گرتے ہوئے ذخائر کی بنیاد پر مضبوط طلب کو ترجیح دے رہے ہیں۔
تاہم سرمایہ کار اب بھی محتاط ہیں اور ایران-اسرائیل جنگ بندی کی صورتحال سے متعلق وضاحت کے منتظر ہیں اور اب مارکیٹ کی توجہ اوپیک پلس کی پیداوار کی سطحوں کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔
تاکاشیما نے پیش گوئی کی کہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمتیں غالباً دوبارہ 60 سے 65 ڈالر کے درمیان واپس آ جائیں گی جو کہ تنازع سے قبل کی سطح ہے۔
اے این زیڈ کے تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں کمی کے بعد مارکیٹ کی توجہ دوبارہ بنیادی عوامل پر مرکوز ہو گئی ہے۔ انہوں نے اس جانب اشارہ کیا کہ امریکا میں خام تیل کے ذخائر مسلسل پانچویں ہفتے کمی کا شکار ہوئے ہیں۔
اے این زیڈ کے تجزیہ کاروں نے اپنے نوٹ میں کہا کہ امریکی سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سست آغاز کے بعد ڈرائیونگ سیزن پوری شدت سے جاری ہے۔“
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے بدھ کو بتایا کہ 20 جون کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران خام تیل اور ایندھن کے ذخائر میں کمی واقع ہوئی، کیونکہ ریفائننگ سرگرمیوں اور طلب میں اضافہ ہوا۔
ای آئی اے کے مطابق، خام تیل کے ذخائر میں 5.8 ملین بیرل کی کمی ہوئی، جو کہ رائٹرز کے سروے میں ماہرین کی جانب سے پیش گوئی کیے گئے 7.97 لاکھ بیرل کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔


Comments
Comments are closed.