تیل کی قیمتوں کی نگرانی کیلئے قائم کمیٹی کا اجلاس،وافر ذخائر پر اظہار اطمینان
- ارکان کا تیزی سے بدلتی علاقائی صورتحال کے پیش نظر مسلسل نگرانی کی ضرورت پر زور
وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں کشیدگی کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور فراہمی کی صورتحال کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دے دی ۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے پیر کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ایران پر اسرائیل کے حالیہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی بدلتی جیوپولیٹیکل صورتحال اور بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر، وزیرِاعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور فراہمی کی صورتحال کی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دی ہے۔
یہ کمیٹی وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے جس میں اہم وفاقی وزارتوں، ریگولیٹری اداروں اور توانائی شعبے کے ماہرین کے سینئر نمائندے شامل ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کمیٹی کی تشکیل حکومت کے قومی توانائی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی غیر یقینی صورتحال کے اس دور میں مارکیٹ کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے فعال طرز عمل کی عکاسی کرتی ہے۔
کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ خطے میں جاری تنازع کے تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات کی مستقبل کی قیمتوں (فارورڈ/ فیوچرز) اور سپلائی چین کی پیش بینی کا بغور جائزہ لے۔
کمیٹی کو اس بات کی بھی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ قلیل اور درمیانی مدت کے دوران قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے زرمبادلہ پر ممکنہ اثرات کا تعین کرے، اور ضرورت پڑنے پر ایسا منصوبہ تجویز کرے جس سے سپلائی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے اور مارکیٹ میں مصنوعات کی دستیابی یقینی بنائی جاسکے۔
اس کے علاوہ، کمیٹی کو یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے کہ وہ طویل المدتی تنازع کی صورت میں مالیاتی اثرات کا تفصیلی تجزیہ کرے۔
بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں پیر کو اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جو جمعہ کو 7 فیصد بڑھ گئی تھیں، کیونکہ اسرائیل اور ایران کی جانب سے ہفتے کے اختتامِ پر دوبارہ حملوں نے اس خدشے کو بڑھا دیا کہ یہ جنگ پورے خطے میں پھیل سکتی ہے اور مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات کو شدید متاثر کرسکتی ہے۔
برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 64 سینٹ (0.86 فیصد) اضافے کے ساتھ فی بیرل 74.87 ڈالر ہو گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ فیوچرز 76 سینٹ (1.04 فیصد) اضافے کے ساتھ 73.74 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئیں۔
ایرانی میزائلوں نے پیر کو اسرائیل کے شہر تل ابیب اور بندرگاہی شہر حیفہ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں رہائشی مکانات تباہ ہو گئے۔ اس حملے نے دنیا بھر کے رہنماؤں میں تشویش کی لہر دوڑا دی، جو اس ہفتے ہونے والے جی 7 اجلاس میں اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان دونوں پرانے دشمنوں کے درمیان جاری جنگ ایک بڑے علاقائی تنازع میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
اتوار کو ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے تبادلے کے نتیجے میں کئی شہری چل بسے، جس کے بعد دونوں ممالک کی افواج نے ایک دوسرے کے شہریوں کو مزید حملوں سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی۔
تازہ ترین پیش رفت نے آبنائے ہرمز میں ممکنہ خلل کے خدشات کو ہوا دی ہے، جو کہ عالمی تجارت کے لیے ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ دنیا میں استعمال ہونے والے کل تیل کا تقریباً پانچواں حصہ، یعنی روزانہ 1 کروڑ 80 سے 1 کروڑ 90 لاکھ بیرل تیل، کنڈینسیٹ اور ایندھن اس راستے سے گزرتے ہیں۔
ادھر پیر کو منعقد ہونے والے کمیٹی کے ابتدائی اجلاس میں ارکان نے عالمی اور ملکی سطح پر پیٹرولیم مارکیٹ کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔
کمیٹی نے اطمینان کا اظہار کیا کہ اس وقت پاکستان کے پاس پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور فوری طور پر فراہمی میں کسی رکاوٹ کا کوئی خطرہ موجو نہیں ہے۔
تاہم ارکان نے تیزی سے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے پیش نظر مسلسل نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔ مزید برآں، بروقت ردعمل اور مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے ایک ورکنگ گروپ روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت کا جائزہ لے گا جبکہ کمیٹی ہفتہ وار اجلاس منعقد کر کے صورتحال کا جائزہ لے گی اور وزیرِ اعظم کو سفارشات پیش کرے گی۔


Comments
Comments are closed.