ٹرمپ کی دوسری صدارت کے آغاز سے ہی عالمی معیشت وائٹ ہاؤس کی غیر مدبرانہ اور جذباتی تجارتی پالیسیوں کے دور رس نتائج سے نمٹنے میں مصروف ہے، جن کی نمایاں مثال بڑے تجارتی شراکت داروں پر تجارتی خسارہ کم کرنے کی غلط کوشش میں اچانک بھاری محصولات کا نفاذ ہے۔
ابتدائی ردعمل میں اسٹاک مارکیٹس متاثر ہوئیں، کاروباری طبقہ غیر یقینی صورتحال کے لیے تیار ہوگیا، اور کرنسی و بانڈ مارکیٹس شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں۔ تاہم اصل اور دیرپا نقصان اس وقت ہوا جب پالیسیوں میں تسلسل ختم ہوا اور مؤثر حکمرانی پر اعتماد متزلزل ہوگیا۔
غیریقینی کی یہ صورتحال عالمی معیشت کی نمو کے لیے ایک نمایاں رکاوٹ بن چکی ہے، جس کی تصدیق اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کی حالیہ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ سے ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تنظیم نے 2023 میں عالمی ترقی کی شرح 3.3 فیصد سے کم کر کے 2025 اور 2026 کے لیے 2.9 فیصد تک کر دی ہے۔ یہ کمی مارچ میں جاری کی گئی پیش گوئی — جس میں موجودہ سال کے لیے 3.1 فیصد اور آئندہ سال کے لیے 3 فیصد ترقی کی توقع ظاہر کی گئی تھی — کے مقابلے میں نمایاں تنزلی ہے، جو عالمی معیشت پر اعتماد میں مسلسل کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
او ای سی ڈی نے خبردار کیا کہ اگر تجارتی تحفظ پسندی کا رجحان بڑھتا رہا تو یہ عالمی معیشت کے لیے مزید خطرات کا باعث بنے گا جن میں مہنگائی میں اضافہ، سپلائی چینز کی تقسیم اور مالیاتی منڈیوں میں شدید عدم استحکام شامل ہے۔ یہ خطرات محض مفروضہ نہیں بلکہ حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں— جب امریکہ نے یکطرفہ طور پر بھاری محصولات نافذ کیے تو متاثرہ ممالک نے بھی جوابی اقدامات کیے، جس سے معاشی انتقامی اقدامات کا ایک تباہ کن سلسلہ شروع ہوا۔ نتیجتاً یہ پالیسی غیر یقینی اور عدم اعتماد کے ایک ایسے بحران میں بدل گئی جس نے سرمایہ کاری کو روک دیا، عالمی سپلائی نظام کو مفلوج کیا اور عالمی منڈیوں پر ایسا دباؤ ڈالا جو تاحال برقرار ہے۔
غیر متوازن تجارتی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال سے ہٹ کر، او ای سی ڈی نے دنیا بھر میں سرکاری مالیات پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے حوالے سے ایک اور سنگین وارننگ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، حکومتوں کا قرضہ پہلے ہی خطرناک سطح پر پہنچ چکا ہے، جب کہ اب انہیں بیک وقت کئی نئے چیلنجز کا سامنا ہے—جن میں دفاعی اخراجات میں اضافہ، گرین انرجی میں سرمایہ کاری اور ترقی یافتہ ممالک میں بڑھتی ہوئی ضعیف آبادی کی دیکھ بھال کے بڑھتے اخراجات شامل ہیں۔
مزید برآں بڑھتے ہوئے شرح سود نے قرضوں کی واپسی کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ کردیا ہے جس سے پہلے ہی دباؤ کا شکار بجٹ مزید سکڑ گئے ہیں۔ یہ مالی دباؤ ترقی پذیر معیشتوں کے لیے سب سے زیادہ تشویشناک ہے، کیونکہ ان میں سے کئی ممالک کو سخت عالمی مالیاتی حالات کے دوران اپنے قرضوں کی تجدید کا سامنا ہے۔
ادھر بڑی منڈیوں میں حصص کی غیر معمولی قیمتوں نے مالی نظام کو اچانک جھٹکوں کے لیے مزید نازک بنا دیا ہے۔ یہ تمام مالیاتی چیلنجز مل کر ایک ایسی عالمی بحالی کو مزید کمزور کرنے کا خطرہ بن چکے ہیں جو پہلے ہی سست روی کا شکار ہے اور یوں عارضی مشکلات اب دیرپا ساختی کمزوریوں میں بدلتی جارہی ہیں۔
او ای سی ڈی نے اپنی رپورٹ میں معاشی استحکام کی بحالی کے لیے ایک پالیسی روڈ میپ پیش کیا ہے جس میں چار اہم اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے، ادارے نے عالمی سطح پر باہمی تعاون پر مبنی تجارتی تعلقات کی بحالی کی سفارش کی ہے، جس کے تحت محصولات (ٹیکسوں) میں کمی اور تجارتی کشیدگی میں نرمی کی جائے۔
مزید تجارتی تقسیم سے بچنا نہایت اہم ہے کیونکہ یہی بحالی کے لیے سب سے مضبوط بنیاد فراہم کرسکتا ہے۔ دوسرا اہم اقدام یہ ہے کہ مرکزی بینکوں کو مہنگائی کے خلاف محتاط رہنا چاہیے، تاہم جیسے ہی حالات اجازت دیں — بشرطیکہ تجارتی کشیدگی نہ بڑھے اور مہنگائی کی توقعات مستحکم رہیں — تو شرح سود میں نرمی کی تیاری کرنی چاہیے۔
تیسرا اہم اقدام مالیاتی پالیسی کے محاذ پر ہے: حکومتوں کو یقینی بنانا ہوگا کہ عوامی قرضے پائیدار سطح پر رہیں۔ اس کے لیے سیاسی جرأت کے ساتھ ایسے قابلِ بھروسہ درمیانی مدتی منصوبے نافذ کرنے ہوں گے جن میں غیر مؤثر اخراجات میں کمی، ٹیکس نظام کی بہتری اور امداد کو درست اور ضرورت مند شعبوں تک محدود رکھنا شامل ہے۔ اگر ایسی اصلاحات نہ کی گئیں تو بہت سے ممالک آئندہ بحران کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔
آخر میں، او ای سی ڈی نے سرمایہ کاری کی سطح بڑھانے پر زور دیا ہے کیونکہ یہی عنصر معیشتوں کو دوبارہ مستحکم کرنے اور عوامی مالیات کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ مستقل کم سرمایہ کاری ترقی کی راہ میں ایک ساختی رکاوٹ ثابت ہوئی ہے، اس لیے نجی سرمایہ کاری اور عوامی انفرااسٹرکچر کی ترقی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مربوط اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
بالآخر، جو سب سے زیادہ ضروری ہے وہ ہے عالمی سطح پر تجارت کے حوالے سے مشترکہ عملی اقدامات، مالی نظم و ضبط پر مبنی مؤثر پالیسی سازی اور عملی اعداد و شمار پر مبنی فیصلوں کی طرف واپسی۔ نظریاتی سخت گیری اور تحفظاتی سوچ نہ صرف موجودہ مسائل کو بڑھائے گی بلکہ بحالی کے عمل کو مزید تاخیر کا شکار بھی بنائے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.