بجٹ دستاویز میں سامنے آنے والے کئی نمایاں مسائل میں سے ایک سب سے سنگین مسئلہ بے روزگاری — خصوصاً نوجوانوں کی بے روزگاری — ہے، جو ایک طرف سست رفتار جاب مارکیٹ کی عکاسی کرتا ہے اور دوسری طرف بڑھتی ہوئی افرادی قوت کی ضروریات کے حوالے سے پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
اکنامک سروے 25-2024 کے مطابق ملک میں بے روزگاری کی شرح 6.3 فیصد ہے، تاہم صورتحال 15 سے 24 سال کے نوجوانوں میں خاص طور پر تشویشناک ہے جہاں بے روزگاری کی شرح 11.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یہ ایج گروپ تمام روزگار کے خواہشمند افراد کا تقریباً 45 فیصد ہے، جو اس بحران کی شدت کو نمایاں کرتا ہے۔
اس بحران کو مزید سنگین بناتی ہے جنس کی بنیاد پر پائی جانے والی نمایاں خلیج — جہاں نوجوان خواتین میں بے روزگاری کی شرح 14.4 فیصد ہے جبکہ نوجوان مردوں میں یہ شرح 10 فیصد ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم کے ذریعے حاصل کردہ مہارتوں اور مارکیٹ میں مطلوبہ ہنر کے درمیان مطابقت کا فقدان بھی ہے، جس کے باعث بہت سے نوجوان دستیاب مواقع کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
تاہم بے روزگاری اور جزوی روزگاری سے نمٹنے کے لیے کسی مربوط اور پُرعزم کوشش کے بجائے، یہ مسئلہ مسلسل پالیسی سازوں کی نظراندازی کا شکار ہے۔ درحقیقت اس غفلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ابھی تک حکومت ایک درست تصویر پیش کرنے جیسے بنیادی کام میں بھی ناکام رہی ہے، کیونکہ اقتصادی سروے میں دی گئی بے روزگاری کی شرح 21-2020 کے لیبر فورس سروے کی پرانی معلومات پر مبنی ہے۔
جیسا کہ اس اخبار میں رپورٹ کیا گیا، حکومت کی طرف سے تازہ اعداد و شمار نہ فراہم کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے ساتویں مردم و خانہ شماری کا عمل مکمل کیا، جس کے باعث تاخیر ہوئی۔ لیکن وہ عمل دو سال قبل مکمل ہو چکا تھا، اور یہ توقع کی جا سکتی تھی کہ پاکستان کے معاشی مستقبل جیسے بنیادی مسئلے کو ہمارے معاشی منتظمین زیادہ سنجیدگی سے لیتے۔
اعداد و شمار میں اس خلاء کو دور نہ کرنا اس وسیع تر پالیسی جمود کو ظاہر کرتا ہے جو بے روزگاری جیسے بحران سے نمٹنے کے حوالے سے پایا جاتا ہے۔ کم از کم حکومت آئندہ مالی سال کے لیے ملک میں موجودہ مہارتوں کی کمی کو پورا کرنے کا جامع منصوبہ ضرور پیش کرتی۔ اس ضمن میں ملک بھر میں پولی ٹیکنیک اداروں اور فنی تربیتی مراکز کے قیام کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی تھی۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت نجی شعبے کو بھی اس بات کی ترغیب دے سکتی تھی کہ وہ منظم اپرنٹس شپ اور ٹریننگ پروگرامز متعارف کروائیں جو نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق عملی مہارتیں فراہم کریں۔
یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ جب تک تکنیکی تعلیم اور بالغوں کی فنی تربیت میں سنجیدہ سرمایہ کاری نہیں کی جاتی، پاکستان میں بے روزگاری پر قابو پانے کی کوئی بھی کوشش محض سطحی ہی رہے گی۔ پولی ٹیکنیک ادارے خاص طور پر اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ روایتی تعلیم کے متبادل کے طور پر نوجوانوں کو عملی ہنر فراہم کرتے ہیں اور انہیں ملازمت کے قابل بناتے ہیں۔
اگر ان اداروں کو درست طریقے سے ترقی دی جائے تو یہ نوجوانوں کو معاشی خودمختاری اور روزگار میں مؤثر شمولیت کا راستہ فراہم کر سکتے ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ صنعتی پیداواری صلاحیت اور مقابلے کی استعداد میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔
مہارتوں کی تربیت سے آگے بڑھ کر، بے روزگاری سے نمٹنے کی کسی بھی حکمتِ عملی کو لازماً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) پر بھی توجہ دینی ہوگی، کیونکہ یہ شعبہ فطری طور پر محنت طلب ہے اور زیادہ تر غیر رسمی معیشت میں شامل ہے۔ اس شعبے کو رسمی معیشت میں شامل کرنے کی ترغیب دینا ناگزیر ہے، تاکہ وہ بینکوں سے مالی سہولیات حاصل کر سکیں، جو ان کے پھیلاؤ اور نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔
اسی طرح، محنت طلب شعبوں جیسے زراعت، تعمیرات اور صنعتی پیداوار میں سرمایہ کاری انتہائی ضروری ہے تاکہ بڑھتی ہوئی افرادی قوت کو جذب کیا جا سکے، جبکہ ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینا بھی خاص طور پر نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
بالآخر، مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ہنر اور تعلیم فراہم کرنا اور ساتھ ہی ساتھ ایسا ماحول پیدا کرنا جہاں نجی شعبہ ملازمتوں کی تخلیق میں مرکزی کردار ادا کرے، پاکستان میں موجودہ روزگار کے خلاء کو پُر کرنے کے لیے فیصلہ کن عوامل ہوں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.