امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے چیف جنرل مائیک ایرک کوریلا نے بدھ کو امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک غیر معمولی شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے۔
جنرل کوریلا نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان کے فعال اور مثبت کردار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے پاکستان کی شراکت کو تسلیم کرتی ہے۔
انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ “داعش خراسان عالمی سطح پر سب سے زیادہ فعال دہشت گرد گروہوں میں سے ایک ہے اور دہشتگردی کیخلاف ایک اہم اتحادی کے طور پر نمایاں ہوا ہے۔
سینٹ کام کے کمانڈر نے بتایا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان قریبی انٹیلی جنس تعاون کے نتیجے میں درجنوں داعش خراسان آپریٹیوز کو ختم اور گرفتار کیا گیا جن میں کم از کم پانچ اعلیٰ درجے کے رہنما بھی شامل تھے۔
انہوں نے 2021 میں ایبی گیٹ بم دھماکے کے ماسٹر مائنڈ جعفر کی گرفتاری اور حوالگی کو پاکستانی انٹیلی جنس کے تعاون سے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔
کوریلا نے کہا کہ جعفر کی گرفتاری کے بعد پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ذاتی طور پر ہمیں آگاہ کیا، جو ہمارے تعاون کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان داعش-کے کے خلاف محدود مگر مؤثر خفیہ معلومات کے اشتراک کے ذریعے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
جنرل کورِیلا نے بتایا کہ داعش خراسان اب بھی پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے نزدیک سرگرم ہے لیکن حالیہ نقصانات کی وجہ سے اس گروپ کی آپریشنل طاقت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2024 کے آغاز سے اب تک پاکستان کے مغربی علاقوں میں ایک ہزار سے زائد دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں جن میں تقریباً 700 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور 2,500 زخمی ہوئے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف فعال طور پرلڑ رہا ہے۔
کوریلا نے امریکہ کے پاکستان اور بھارت کے ساتھ متوازن تعلقات کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ میں اسے یا تو یا نہیں والی صورتحال نہیں دیکھتا۔ ہمیں دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے چاہئیں تاکہ علاقائی استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

Comments
Comments are closed.