BAFL 56.99 Increased By ▲ 0.26 (0.46%)
BIPL 27.15 Increased By ▲ 0.17 (0.63%)
BOP 33.70 Decreased By ▼ -0.05 (-0.15%)
CNERGY 9.98 Increased By ▲ 0.10 (1.01%)
DFML 17.99 Decreased By ▼ -0.01 (-0.06%)
DGKC 204.49 Decreased By ▼ -0.44 (-0.21%)
FABL 100.00 Decreased By ▼ -0.10 (-0.1%)
FCCL 53.50 Increased By ▲ 0.41 (0.77%)
FFL 16.65 Increased By ▲ 0.13 (0.79%)
GGL 24.78 Decreased By ▼ -0.06 (-0.24%)
HBL 301.90 Increased By ▲ 2.08 (0.69%)
HUBC 217.98 Increased By ▲ 0.90 (0.41%)
HUMNL 10.81 Increased By ▲ 0.20 (1.89%)
KEL 7.23 Increased By ▲ 0.01 (0.14%)
LOTCHEM 29.78 Increased By ▲ 0.47 (1.6%)
MLCF 92.25 Increased By ▲ 0.09 (0.1%)
OGDC 318.00 Increased By ▲ 1.71 (0.54%)
PAEL 41.99 Decreased By ▼ -0.05 (-0.12%)
PIBTL 16.50 Increased By ▲ 0.09 (0.55%)
PIOC 302.00 Increased By ▲ 1.76 (0.59%)
PPL 217.88 Increased By ▲ 1.04 (0.48%)
PRL 52.11 Increased By ▲ 1.25 (2.46%)
SNGP 102.45 Increased By ▲ 0.73 (0.72%)
SSGC 27.08 Increased By ▲ 0.10 (0.37%)
TELE 8.55 Decreased By ▼ -0.10 (-1.16%)
TPLP 13.42 Increased By ▲ 0.03 (0.22%)
TRG 59.99 Increased By ▲ 0.73 (1.23%)
UNITY 10.30 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

مالیاتی بل 26-2025 میں یکم جولائی 2025 سے رہائشی و کمرشل پراپرٹی کی منتقلی پر عائد 3 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ تین فیصد ایف ای ڈی رہائشی اور کمرشل پراپرٹی کی الاٹمنٹ یا منتقلی پر لاگو تھی جو فنانس ایکٹ 2024 کے ذریعے عائد کی گئی تھی اور مختلف ہائی کورٹس میں قانونی چارہ جوئی کا سبب بنی رہی۔

قبل ازیں حکومت اس ڈیوٹی کو آرڈیننس کے ذریعے ختم کرنا چاہتی تھی لیکن یہ فیصلہ حتمی شکل نہیں پا سکا۔

اسی طرح انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 236K کے تحت جائیداد کی خریداری پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں بھی کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ مجوزہ شرح کے مطابق اگر جائیداد کی قیمت 5 کروڑ روپے سے کم ہے تو 1.5 فیصد، 5 کروڑ سے زائد اور 10 کروڑ تک ہے تو 2 فیصد، اور 10 کروڑ سے زائد ہے تو 2.5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوگا۔

اس کے برعکس، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 236C کے تحت جائیداد فروخت کرنے والوں پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح بڑھا کر بالترتیب 4.5 فیصد، 5 فیصد اور 5.5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خریدار اور فروخت کنندہ کے لیے مختلف شرحوں کی کوئی واضح وجہ نہیں دی گئی، تاہم بظاہر اس فرق کا مقصد خریداروں کو سیکنڈری مارکیٹ کے بجائے بلڈرز اور ڈیویلپرز سے پراپرٹی خریدنے کی ترغیب دینا ہو سکتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.