BR100 Decreased By (-0.08%)
BR30 Decreased By (-0.27%)
KSE100 Increased By (0.04%)
KSE30 Increased By (0.04%)
BAFL 56.80 Increased By ▲ 0.07 (0.12%)
BIPL 27.01 Increased By ▲ 0.03 (0.11%)
BOP 33.78 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
CNERGY 10.09 Increased By ▲ 0.21 (2.13%)
DFML 18.15 Increased By ▲ 0.15 (0.83%)
DGKC 203.74 Decreased By ▼ -1.19 (-0.58%)
FABL 99.35 Decreased By ▼ -0.75 (-0.75%)
FCCL 53.50 Increased By ▲ 0.41 (0.77%)
FFL 16.49 Decreased By ▼ -0.03 (-0.18%)
GGL 25.70 Increased By ▲ 0.86 (3.46%)
HBL 301.19 Increased By ▲ 1.37 (0.46%)
HUBC 217.50 Increased By ▲ 0.42 (0.19%)
HUMNL 10.55 Decreased By ▼ -0.06 (-0.57%)
KEL 7.20 Decreased By ▼ -0.02 (-0.28%)
LOTCHEM 29.50 Increased By ▲ 0.19 (0.65%)
MLCF 91.06 Decreased By ▼ -1.10 (-1.19%)
OGDC 316.99 Increased By ▲ 0.70 (0.22%)
PAEL 42.00 Decreased By ▼ -0.04 (-0.1%)
PIBTL 16.49 Increased By ▲ 0.08 (0.49%)
PIOC 296.15 Decreased By ▼ -4.09 (-1.36%)
PPL 217.41 Increased By ▲ 0.57 (0.26%)
PRL 52.35 Increased By ▲ 1.49 (2.93%)
SNGP 100.90 Decreased By ▼ -0.82 (-0.81%)
SSGC 26.52 Decreased By ▼ -0.46 (-1.7%)
TELE 8.55 Decreased By ▼ -0.10 (-1.16%)
TPLP 13.42 Increased By ▲ 0.03 (0.22%)
TRG 59.28 Increased By ▲ 0.02 (0.03%)
UNITY 10.14 Decreased By ▼ -0.16 (-1.55%)
WTL 1.24 Increased By ▲ 0.01 (0.81%)

حکومت نے وفاقی بجٹ 2025-26 میں تنخواہ دار طبقے کے لیے خاطر خواہ ٹیکس ریلیف کا اعلان کیا ہے اور مختلف آمدنی کی سطح پر ٹیکس کی شرح کم کردی ہے تاکہ موجودہ معاشی چیلنجز کے دوران اس طبقے کو مالی سہولت فراہم کی جاسکے۔

تنخواہ دار افراد کے لیے سالانہ آمدنی کی حد 32 لاکھ روپے تک کے ٹیکس ریٹ میں کمی کی گئی ہے تاکہ کم اور درمیانی آمدنی والے طبقے کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ اسی طرح صرف تنخواہ دار طبقے کے لیے سرچارج کی شرح کو 10 فیصد سے کم کر کے 9 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

فنانس بل 2025-26 میں تنخواہ دار افراد کے لیے نیا ٹیکس ڈھانچہ متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت مختلف آمدنی کی سطح پر ٹیکس کی شرح اور قابلِ ادائیگی رقم میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔

آمدنی جو 6 لاکھ روپے سے 12 لاکھ روپے کے درمیان ہے: اس پر ٹیکس کی شرح 1 فیصد مقرر کی گئی ہے، جس کے تحت 12 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر ٹیکس کی رقم 30,000 روپے سے کم ہو کر 6,000 روپے کر دی گئی ہے۔

12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر عائد 15 فیصد ٹیکس کی شرح میں 4 فیصد کمی کردی گئی ہے، جس کے بعد نئی ٹیکس شرح 11 فیصد مقرر کی گئی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ملازم جس کی سالانہ آمدنی 22 لاکھ روپے تک ہے اور جو پہلے زیادہ سے زیادہ 3,30,000 روپے ٹیکس ادا کرتا تھا، اب اسے 2,42,000 روپے سالانہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے کم کرکے 23 فیصد کردی گئی ہے، جس سے زیادہ آمدنی والے تنخواہ دار طبقے کو بھی ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔

ایک ملازم جس کی سالانہ آمدنی 32 لاکھ روپے تک ہے اور جو پہلے زیادہ سے زیادہ 5,50,000 روپے ٹیکس ادا کرتا تھا، اب اس سے سالانہ 5,06,000 روپے ٹیکس کی کٹوتی کی جائے گی۔

ٹیکس سلیبز میں یہ کمی حکومت کی اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا چاہتی ہے، جو مہنگائی اور بڑھتی ہوئی روزمرہ اخراجات کے باعث شدید معاشی دباؤ کا شکار رہا ہے۔

ٹیکس ماہر وقاص شہزاد بٹ نے بتایا کہ سالانہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے کمانے والے تنخواہ دار افراد کو سب سے بڑا ریلیف ملے گا، کیونکہ حکومت پاکستان نے اس آمدنی پر ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کر کے صرف 1 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔

اس تجویز کے تحت 12 لاکھ روپے سالانہ کمانے والے افراد اب صرف 6,000 روپے ٹیکس ادا کریں گے، جو پہلے 30,000 روپے تھا۔

اس کے علاوہ، حکومت پاکستان نے سالانہ 22 لاکھ روپے تک کمانے والے ٹیکس دہندگان کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے، جو کہ 4 فیصد کی نمایاں کمی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.