کاروباری برادری کو نئے بجٹ سے بڑی توقعات وابستہ
چیئرمین نیشنل بزنس گروپ ، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹیلیکچوئلز فورم کے صدر، آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، ایف پی سی سی آئی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور صدر و سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا کہ کاروباری برادری کو نئے بجٹ سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جاری معاشی بحران، بلند مہنگائی اور وسیع بے روزگاری کے درمیان عوام حکومت سے ایسے بجٹ کی توقع رکھتی ہے جو معنی خیز ریلیف فراہم کرے، تاکہ صنعتی اور تجارتی شعبے استحکام، کاروبار کی آسانی اور ترقی کی جانب گامزن ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ ایسا بجٹ چاہتا ہے جو سرمایہ کاری کو فروغ دے، پیداواری لاگت کم کرے، ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرے، برآمدات میں اضافہ کرے، تجارتی خسارہ ختم کرے اور معیشت کو مکمل طاقت کے ساتھ چلانے میں مدد دے۔
ساتھ ہی دفاعی بجٹ میں اضافہ ناگزیر ہے۔ سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ کفایت شعاری کو فروغ دیا جا سکے، غیر ضروری اخراجات پر قابو پایا جا سکے اور بدعنوانی کو روکا جا سکے۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستانی معیشت کئی سال سے دباؤ کا شکار ہے۔ اگرچہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کیے گئے اقدامات نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، لیکن ان سے عوام پر بے روزگاری اور مہنگائی کا بوجھ بھی بڑھا۔ موجودہ حالات کے پیش نظر نیا بجٹ عوامی ریلیف کو ساختی معاشی اصلاحات کے ساتھ جوڑے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر ضروری سبسڈیاں ختم کی جائیں، ٹیکس چھوٹ کا جائزہ لیا جائے، سرکاری اخراجات میں کمی کی جائے اور ناکام ریاستی اداروں کی نجکاری کی جائے۔
میاں زاہد حسین نے زور دیا کہ زراعت، آئی ٹی، برآمدات، اور ایس ایم ای سیکٹر کو ترجیحی بنیادوں پر سہارا دیا جائے تاکہ یہ شعبے روزگار پیدا کریں اور معیشت کو مضبوط کریں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.