جے آر ڈلاس ٹیک فنڈ نے پاکستانی ٹیکنالوجی ماہرین مہوش سلمان علی اور ملک مدثر کو 10 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سونپ دی ہے تاکہ وہ یہ رقم خصوصی امریکی اسٹارٹ اپ سرمایہ کاری منصوبوں میں لگائیں۔ یہ بات جمعے کے روز بزنس ریکارڈر کو معلوم ہوئی ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق اس تاریخی معاہدے کے تحت مہوش سلمان علی اور ملک مدثر کو 10 ملین ڈالر کی مختص سرمایہ کاری فراہم کی جائے گی، تاکہ وہ ان ابھرتے ہوئے اسٹارٹ اپس کی نشاندہی، جانچ اور سرمایہ کاری کر سکیں جو امریکہ میں اپنے آپریشنز کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ دونوں ماہرین بطور مرکزی سرمایہ کاری شراکت دار خدمات انجام دیں گے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل ہیلتھ اور جدید ٹیکنالوجی کے منصوبوں میں مکمل اختیارات کے ساتھ سرمایہ کاری کر سکیں گے۔
جے آر ڈلاس ٹیک فنڈ کے منیجنگ پارٹنر، جہانگیر اے راجہ نے کہا ہے کہ ہم اپنی نسل کے دو باصلاحیت اور دوراندیش ٹیکنالوجی رہنماؤں کو 10 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سونپ رہے ہیں۔
جے آر ڈلاس ٹیک فنڈ، امریکہ میں قائم جے آر ڈلاس ویلتھ مینجمنٹ کا نمایاں نجی سرمایہ کاری شعبہ ہے۔
جہانگیر اے راجہ نے مزید کہا کہ یہ دونوں پاکستانی ٹیکنالوجی ماہرین کراچی اور لاہور میں اپنے دفاتر چلا رہے ہیں۔ وہ تکنیکی مہارت، کاروباری کامیابی اور اسٹریٹجک وژن کا بہترین امتزاج ہیں، جو اُن انقلابی اسٹارٹ اپس کی نشاندہی کے لیے درکار ہے جو امریکی مارکیٹ میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مہوش علی ڈیٹا والٹ کی بانی سی ای او ہیں، جسے پاکستان کا پہلا شمسی توانائی سے چلنے والا اور کوانٹم انکرپٹڈ مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا سینٹر قرار دیا جاتا ہے۔ وہ ذہانت اے آئی کی شریک بانی بھی ہیں، جو پاکستان کا پہلا مقامی جی پی ٹی ماڈل ہے۔ وہ ایپس جینی ٹیکنالوجیزکی چیف آپریٹنگ آفیسر، ٹیڈ ایکس اسپیکر اور فوربز ٹیکنالونی کونسل کی رکن بھی ہیں۔
ملک مدثر ایپس جینی ٹیکنالوجیز کے بانی سی ای او ہیں، جو امریکہ، برطانیہ اور پاکستان میں کام کر رہی ہے۔ وہ گھرپر، باکسزجین اور ڈینٹل کنیکٹ جیسے منصوبوں کے شریک بانی بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاسا) کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔
بیان کے مطابق یہ 10 ملین ڈالر کا فنڈ ایک سخت معیارات پر مبنی سرمایہ کاری کے نظام کے تحت کام کرتا ہے، جس کا مقصد مالی منافع کے ساتھ ساتھ معاشی اثرات کو بھی زیادہ سے زیادہ بنانا ہے۔
سرمایہ کاری کا حجم ہر اسٹارٹ اپ کے لیے 2.5 لاکھ سے 15 لاکھ امریکی ڈالر کے درمیان رکھا گیا ہے۔ یہ سرمایہ کاری مصنوعی ذہانت/مشین لرننگ، کلاؤڈ انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل ہیلتھ، کوانٹم کمپیوٹنگ، اور سائبر سیکیورٹی جیسے شعبوں پر مرکوز ہوگی۔
سرمایہ کار کا ہدف ہے کہ یہ مکمل فنڈ آئندہ دو برسوں کے دوران 15 سے 20 منتخب امریکی منصوبوں میں لگایا جائے، جو امریکی مارکیٹ پر مرکوز ہوں۔
اس فنڈنگ سے توقع ہے کہ سرمایہ کاری حاصل کرنے والی کمپنیاں براہِ راست روزگار کے مواقع پیدا کریں گی، اور 24 ماہ کے اندر 300 سے 500 اعلیٰ مہارت یافتہ ٹیکنالوجی کے روزگار مہیا کیے جائیں گے۔
اس اقدام کا مقصد ٹیکساس کو امریکہ میں داخل ہونے والی بین الاقوامی ٹیکنالوجی صلاحیت کا مرکز بنانا اور مصنوعی ذہانت، صحت عامہ، اور کلاؤڈ ٹیکنالوجی میں انقلابی پیش رفت کو تیز کرنا ہے۔
بیان کے مطابق توقع ہے کہ یہ منتخب کمپنیاں تین سال کے اندر امریکی معیشت میں 5 سے 10 کروڑ ڈالر کے اقتصادی فوائد فراہم کریں گی۔


Comments
Comments are closed.