غیر قانونی تجارت یا اسمگلنگ کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھتے، وزارت تجارت
- وزارت تجارت نے مسئلے کے جامع حل کیلئے "ہول آف گورنمنٹ" یعنی تمام اداروں پر مشتمل حکومتی حکمت عملی اپنانے کی تجویز دیدی
وزارتِ تجارت نے جمعرات کے روز واضح کیا کہ غیر قانونی (غیر رسمی) تجارت اور اسمگلنگ سے نمٹنے میں اس کا کوئی کردار نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی اعداد و شمار وزارت کے پاس موجود ہیں۔ وزارت تجارت نے اس مسئلے کے جامع حل کے لیے ”ہول آف گورنمنٹ“ یعنی تمام اداروں پر مشتمل حکومتی حکمت عملی اپنانے کی تجویز دی۔
یہ تجویز ایڈیشنل سیکریٹری (ٹریڈ پالیسی) سلمان مفتی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی، جس کی صدارت سینیٹر سرمد علی نے کی۔ اجلاس میں سینیٹر فیصل سلیم رحمان اور سینیٹر ذیشان خان زادہ بھی شریک تھے۔
یہ اجلاس اقتصادی تھنک ٹینک ”پرائم“ کی جانب سے غیر قانونی تجارت سے متعلق دعوؤں کا جائزہ لینے اور اگر یہ درست ثابت ہوں تو اس مسئلے کے پائیدار حل تجویز کرنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔
پرائم، جس میں ایف بی آر کے سابق افسران بھی شامل ہیں، کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں پانچ اشیاء کی غیر قانونی تجارت مجموعی تجارت کا 56 فیصد ہے جبکہ قانونی (رسمی) تجارت صرف 44 فیصد ہے۔
تھنک ٹینک کے مطابق غیر قانونی تجارت کی کل مالیت سالانہ 750 ارب روپے ہے، جن میں تمباکو 300 ارب روپے، دوا سازی کا شعبہ 60 سے 65 ارب روپے، ٹائروں اور لبریکنٹس کی مد میں 106 ارب روپے، پٹرول و ڈیزل 270 ارب روپے اور چائے 10 ارب روپے شامل ہیں۔
پرائم نے مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے ایک رکن کا بھی حوالہ دیا، جو سابق ایف بی آر افسر اور کسٹمز انٹیلی جنس کے ماہر رہ چکے ہیں۔ ان کے مطابق غیر قانونی تجارت کا حجم سالانہ 16 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
خصوصاً تمباکو کے شعبے سے متعلق 300 ارب روپے کے اعداد و شمار نے کمیٹی کے ارکان کو تشویش میں مبتلا کر دیا، جنہوں نے ان اعداد و شمار کی درستگی پر سوال اٹھائے۔ تاہم، پرائم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے مکمل ذمہ داری لینے سے گریز کیا اور بتایا کہ یہ اعداد و شمار مختلف سروے رپورٹس اور اقوامِ متحدہ کے حوالوں پر مبنی ہیں۔
خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے ارکانِ کمیٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ سروے کی بنیاد پر جمع کیے گئے ڈیٹا عموماً تاثر پر مبنی ہوتے ہیں اور ان کی پشت پر کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہوتے۔
سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کہا کہ تمباکو کے شعبے سے متعلق جو اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں، وہ مبالغہ آمیز محسوس ہوتے ہیں۔ اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں، تو متعلقہ اداروں کے افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جن کی ناکامی سے یہ مسئلہ اتنا بڑھا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ جاری قومی مہم ’’بہترین پاکستان‘‘ میں بھی 300 ارب روپے کے غیر قانونی تمباکو کاروبار کا حوالہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ اعداد و شمار غلط ثابت ہوتے ہیں تو پرائم کو اپنی رپورٹ واپس لینی ہوگی، کیونکہ یہ رپورٹ بڑی سگریٹ ساز کمپنیوں نے اس مہم کے جواز کے طور پر استعمال کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا، میں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھتا ہوں جہاں صوابی، مردان اور چارسدہ جیسے اضلاع تمباکو کی پیداوار کے بڑے مراکز ہیں۔ مجھے اپنے کسانوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے اور بطور چیئرمین داخلہ کمیٹی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ بھی بچانی ہے۔
سینیٹر ذیشان خان زادہ نے اپنے ساتھی کی تائید کرتے ہوئے سفارش کی کہ مالی نقصان سے متعلق پیش کیے گئے اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق کی جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ عوامی و نجی شعبے سے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک مشترکہ اجلاس میں بلایا جائے تاکہ مختلف آرا سن کر کوئی جامع نتیجہ اخذ کیا جا سکے۔
سینیٹر سرمد علی نے آئندہ اجلاس میں پاکستان ٹوبیکو کمپنی، فلپ مورس، مقامی سگریٹ ساز کمپنیوں، تمباکو کاشتکاروں، ایف بی آر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں کو مدعو کرنے کی تجویز دی، تاکہ ہر فریق کو اپنی رائے پیش کرنے کا موقع ملے۔
کمیٹی نے دوا سازی کے شعبے پر بھی علیحدہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس شعبے میں غیر قانونی تجارت کی وجوہات اور قومی آمدن پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.