پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پیر کو کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان صرف ایک پائیدار جنگ بندی ہی حقیقی فتح کی نمائندہ ہے۔
7 مئی کو بھارت نے پاکستانی اہداف پر فضائی حملے کیے تھے جو گزشتہ ماہ پاہلگام میں 26 افراد کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے کیے گئے تھے۔ پہلگام سری نگر سے تقریباً 89 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے، جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں موسم گرما کا دارالحکومت صدر مقام تصور کیا جاتا ہے۔
پاکستان نے اس حملے میں کسی بھی طو پر ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں چائنا سینٹرل ٹیلی ویژن (سی سی ٹی وی) کو دیے گئے انٹرویو میں، بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب تک حتمی جنگ بندی نہیں ہوتی کوئی ”حقیقی فتح“ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اس جنگ میں کس کی فتح ہوئی، اس کا آسان جواب یہ ہے کہ کون اپنی عوام سے جھوٹ بول رہا ہے؟ کس کے میڈیا نے اپنی عوام سے جھوٹ بولا؟ کس کی حکومت نے تنازع کے دوران اور بعد میں اپنی عوام سے جھوٹ بولا؟ بھارتی حکومت کو ایک مہینہ لگا یہ تسلیم کرنے میں کہ ہم نے ان کے طیارے مار گرائے۔ وہ یہ حقیقت اپنی عوام سے کیوں چھپا رہے تھے؟ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہار گئے۔ ہماری خود دفاعی کارروائی میں، جو ان کی یکطرفہ خودمختاری کی خلاف ورزی کے جواب میں تھی، ہم نے چھ بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے اور انہوں نے کل تک اسے تسلیم نہیں کیا۔ ہم نے جنگ بندی حاصل کر لی ہے۔ یہ اہم ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہی حقیقی فتح ہے۔
پاکستان اور بھارت نے 10 مئی کو اعلان کیا تھا کہ انہوں نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے، لیکن بلاول بھٹو زرداری نے اعتراف کیا کہ یہ جنگ بندی نازک ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ ایک نازک جنگ بندی ہے۔ یہ ایک پائیدار جنگ بندی ہونی چاہیے، ہم بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنا کردار ادا کرے کیونکہ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ صرف ایک ملک ہے جو بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے اور وہ بھارت ہے۔ لہٰذا ظاہر ہے کہ یہ صورتحال پائیدار نہیں ہو سکتی۔ اس لیے ہمارا مقصد بین الاقوامی برادری کو شامل کرنا ہے تاکہ وہ اپنا کردار ادا کرے اور امن قائم کرے، جس میں کشمیری مسئلے کا حل، بھارت کے غیر قانونی پانی کے تنازعے کا حل، اور دہشت گردی کے بارے میں مناسب بات چیت شامل ہو۔
سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں فریق اپنے اختلافات کو ممکنہ طور پر بات چیت کے ذریعے حل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ سب سے اہم اور سب سے ممکنہ کامیابی یہ ہوگی کہ ہم بات چیت شروع کریں۔ بات چیت اور سفارت کاری کو تمام مسائل کے حل کے لیے ابتدا ہونا چاہیے۔ پاکستان بھارت سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ہم امن چاہتے ہیں، لیکن آپ کی بات کے مطابق امن ممکن نہیں جب تک کہ ہم بات چیت میں شامل نہ ہوں۔ یقیناً، جیسا کہ ہم نے اپنی جنگ بندی کے حصول میں بین الاقوامی برادری کی مداخلت پر انحصار کیا، اس لیے یہ مناسب ہے کہ اگر بین الاقوامی برادری اپنا کردار اسی طرح ادا کرے تو شاید ہم جنوبی ایشیا میں مستقل امن قائم کر سکیں۔


Comments
Comments are closed.