پنجاب حکومت نے جمعرات کو پاکستان کی پہلی انوائرمنٹل پروٹیکشن فورس (ای پی ایف) کے قیام کا اعلان کیا ہے جس کے ساتھ صوبے میں ماحولیاتی اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات بھی شروع کیے گئے ہیں۔
یہ اعلان وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے یومِ ماحولیات کے موقع پر جاری کردہ بیان میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے کلائمٹ ریزیلیئنٹ پنجاب وژن اور ایکشن پلان کے تحت اپنی پہلی موسمیاتی پالیسی نافذ کر دی ہے اور ماحول دوست کاروباروں اور اسٹارٹ اپس کی حمایت کے لیے 15 ارب روپے کا ماحولیاتی فنڈ بھی قائم کیا ہے۔
گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے کی وسیع تر ماحولیاتی حکمت عملی کے تحت متعدد اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں شامل ہیں:
-
پلاسٹک مینجمنٹ سیل کا قیام اور سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی کا نفاذ
-
پلاسٹک بنانے والوں اور بیچنے والوں کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا آغاز
-
گاڑیوں کے لیے عالمی معیار کے مطابق ایمیشن ٹیسٹنگ سرٹیفیکیشن کا اجرا
صوبے بھر میں 50 ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنز کی تنصیب
-
پٹرول کی کوالٹی مانیٹر کرنے کے لیے چار فیول ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا قیام
-
دریاؤں اور نالوں پر پانی کے معیار کی نگرانی کے لیے 15 واٹر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنز کا قیام
-
مٹی کے آلودگی کو کم کرنے کے لیے تعمیراتی مقامات پر اسپریںکلر سسٹمز کی تنصیب
-
’چیف منسٹر گرین کریڈٹ پروگرام‘ کے تحت درخت لگانے اور ری سائیکلنگ کی مہمات کا آغاز
-
ماحولیاتی قوانین کی پابندی کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی جی آئی ایس اسکواڈ کا قیام
-
ماحولیاتی مسائل پر عوامی رائے کے لیے مخصوص ہیلپ لائن (1317) کا آغاز
مزید برآں حکومت نے عوامی محکموں کے لیے ماحولیاتی سماجی تحفظ کی تربیت شروع کی ہے اور پانچ علاقوں میں ڈویژنل ماحولیاتی دفاتر قائم کیے ہیں جبکہ چار مزید دفاتر بنانے کا منصوبہ ہے۔
ایک موبائل ایپلیکیشن ’گرین پنجاب‘ شروع کی گئی ہے تاکہ عوام کو حکومت کی ماحولیاتی خدمات سے رابطہ کرنے میں سہولت فراہم کی جا سکے۔
لاہور میں شروع کی گئی الیکٹرک بس سروس کو دیگر ڈویژنوں تک بڑھایا جائے گا اور پنجاب بھر میں 1,100 اضافی الیکٹرک بسیں اور چارجنگ اسٹیشن قائم کرنے کے منصوبے ہیں۔


Comments
Comments are closed.