ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستان کے ایک اعلیٰ سطح پارلیمانی وفد، جس کی قیادت پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کر رہے تھے، نے کیپٹل ہل میں امریکی کانگریس کے ارکان سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔
بات چیت کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کی حالیہ بلا جواز جارحیت کے اقدامات کو اجاگر کیا، جن میں شہریوں پر حملے اور انڈس واٹرز ٹریٹی کی یکطرفہ معطلی شامل ہے، جو کہ بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے امریکہ، خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ اور کہا کہ انہوں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے قیام میں تعمیری کردار ادا کیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا انحصار یکطرفہ اقدامات یا دباؤ کے بجائے بات چیت، تحمل اور جموں و کشمیر تنازع کے منصفانہ حل پر ہے۔
وفد نے علاقائی امن، انسداد دہشتگردی تعاون کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور بے بنیاد الزامات کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے جموں و کشمیر پر فوری بات چیت کی ضرورت پر زور دیا، جو اقوام متحدہ کے مینڈیٹس کے تحت حل طلب مسئلہ ہے، اور بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں اور انڈس واٹرز ٹریٹی کی پاسداری کا مطالبہ کیا۔
کانگریس کے ارکان نے وفد کا خیرمقدم کیا، پاکستان اور بھارت دونوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور علاقائی استحکام کو ترجیح دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کے عوام کے لیے امریکی حمایت کا اعادہ کیا اور ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے جاری معاونت کا وعدہ کیا۔


Comments
Comments are closed.