مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے مالی سال 25-2024 کے لیے دواسازی کے شعبے میں کام کرنے والے اداروں کو چھ مستثنیات دی ہیں۔ یہ مستثنیات مسابقتی ایکٹ 2010 کی شق 5 کے تحت دی گئی ہیں، جیسا کہ جمعرات کو جاری کردہ ایک میڈیا بیان میں کہا گیا۔
کمیشن کے مطابق، یہ چھوٹ ان کمرشل معاہدوں میں شامل مخصوص پابند شقوں سے متعلق ہیں—جیسے کہ علاقائی اجارہ داری اور مسابقت سے باز رہنے کی شرائط جو عمومی طور پر ایکٹ کی شق 4 (ممنوعہ معاہدات) کے تحت غیر مسابقتی سمجھی جاتی ہیں۔
تاہم، کمیشن نے مکمل جانچ پڑتال، بشمول مارکیٹ ڈھانچے، شعبہ جاتی ضوابط، اور معاہدوں کی تجارتی شرائط کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ قرار دیا کہ یہ معاہدات پیداواری استعداد، تکنیکی ترقی، اور اہم دواسازی مصنوعات تک صارفین کی رسائی کو بہتر بنانے میں مددگار ہیں۔
کمیشن نے کہا کہ ان مستثنیات سے خدمات کی فراہمی میں بہتری، کم ترقی یافتہ علاقوں میں ادویات کی دستیابی میں اضافہ، اور صحت عامہ کے بہتر نتائج کی توقع ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ صارفین کو جدید دواسازی ٹیکنالوجی تک رسائی، زیادہ مستند مصنوعات کی معلومات، اور اعلیٰ معیار کی خدمات کا فائدہ حاصل ہوگا۔
کمیشن نے آگاہ کیا کہ ہر چھوٹ کی اجازت مخصوص مدت کے لیے دی گئی ہے اور اس پر وہ شرائط لاگو ہوں گی جن کے ذریعے یقینی بنایا جائے گا کہ مسابقتی فوائد کسی بھی ممکنہ منفی اثر سے کہیں زیادہ ہوں۔
کمیشن نے وضاحت کی کہ ان مستثنیات کے تحت قیمتوں کے تعین یا ملی بھگت کی کوئی اجازت نہیں دی گئی، اور قیمتوں کے انتظامات ان مستثنیات کے دائرہ کار سے باہر رہیں گے۔
بدھ کے روز وفاقی حکومت نے دواسازی کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کے تحت ایک بااختیار فارما ایکسپورٹ پروموشن کونسل ”فارم ایکس پاکستان“ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔


Comments
Comments are closed.