وزارت تجارت کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے کہا ہے کہ ایران اور افغانستان کے ساتھ رسمی بینکنگ روابط قائم کیے بغیر اور الیکٹرانک امپورٹ فارم (ای ایف آئی) اور فنانشل انسٹرومنٹس (ایف آئی) کی چھوٹ دیے بغیر ان ممالک کے ساتھ تجارت آسان نہیں ہو گی۔
ذرائع کے مطابق، افغانستان اور ایران کے ساتھ فعال بینکنگ تعلقات نہ ہونے اور ان پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، وزارت تجارت نے متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد ای ایف آئی اورایف آئی کی شرائط میں استثنیٰ دینے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ تجارت کو سہولت دی جا سکے۔
تاہم، اسٹیٹ بینک نے اس سہولت کے غلط استعمال کے خدشات ظاہر کیے کیونکہ یہ لین دین رسمی بینکنگ نظام سے باہر کیے جاتے ہیں۔ ان خدشات کو کم کرنے کے لیے، اسٹیٹ بینک نے ویبوک اور پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) سسٹمز میں اضافی کنٹرولز کی ضرورت پر زور دیا تاکہ صرف حقیقی درآمد کنندگان، برآمد کنندگان اور تاجروں کو فائدہ پہنچے۔ اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ یہ چھوٹ صرف ایران اور افغانستان کی غیر پابندی شدہ اشیاء تک محدود ہونی چاہیے۔
اسٹیٹ بینک نے دوہرایا کہ ای ایف آئی/ ایف آئی کی چھوٹ کے بغیر ایران اور افغانستان کے ساتھ تجارت مشکل رہے گی جب تک کہ رسمی بینکنگ چینلز قائم نہ کیے جائیں۔ اس معاملے پر وفاقی حکومت، خاص طور پر کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)، کو پالیسی سطح پر فیصلہ کرنا چاہیے۔
اسٹیٹ بینک نے ایران اور افغانستان کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کے انتظامات کو ایک محفوظ متبادل کے طور پر فعال کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ غیر رسمی مالی چینلز کے ذریعے غلط استعمال سے بچا جا سکے۔
وزارت تجارت درآمدات اور برآمدات کو امپورٹ پالیسی آرڈر اور ایکسپورٹ پالیسی آرڈر کے تحت کنٹرول کرتی ہے۔ ان آرڈرز کے تحت تمام ادائیگی کے طریقے اسٹیٹ بینک کی فارن ایکسچینج ریگولیشن کے مطابق ہوتے ہیں۔ پاکستان میں فارن ایکسچینج پالیسی 1947 کے فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت چلائی جاتی ہے جس کے تحت اسٹیٹ بینک بینکوں کو ہدایات جاری کرتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی فارن ایکسچینج مینوئل کے چیپٹر 13 میں درآمدات کے قواعد و ضوابط ہیں مگر افغانستان اور ایران سے درآمدات کے حوالے سے کوئی مخصوص ہدایات شامل نہیں ہیں۔
چیپٹر 12 (برآمدات) میں پاکستان سے برآمدات کی ہدایات موجود ہیں جن میں افغانستان کو روپے اور قابل تبادلہ کرنسی میں ادائیگی کی ہدایات شامل ہیں۔
یہ تجویز دی گئی ہے کہ ایران اور افغانستان سے زمینی راستے سے آنے والی اشیاء کے لیے سرٹیفیکیٹ آف اوریجن لازمی ہونا چاہیے کیونکہ دوسرے ممالک سے درآمدات عام بینکنگ چینلز کے ذریعے ہوتی ہیں۔ یہ شرط تمام ایران اور افغانستان سے آنے والی اشیاء پر لاگو ہونی چاہیے تاکہ غیر ملکی مصنوعات کو ان راستوں سے درآمد کرنے سے روکا جا سکے۔
مذکورہ ممالک سے براہِ راست درآمدات پر کوئی پابندی نہیں اور یہ آسانی سے بینکنگ چینلز کے ذریعے ہو سکتی ہیں، جو تجارتی لین دین کی شفافیت بڑھانے اور غیر رسمی چینلز کے استعمال کو کم کرنے میں مدد دے گی۔
سال 2023 میں ایف بی ار اور وزارت تجارت نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو منظم کرنے کے لیے چار ایس آر اوز جاری کیے جن میں بعض اشیاء پر پابندی اور 10 فیصد پروسیسنگ فیس عائد کی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق، بعض ممنوعہ اشیاء ایران کے راستے پاکستان لائی جا رہی ہیں تاکہ وزارت تجارت کی پابندیوں سے بچا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.