ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز فورم نے وفاقی بجٹ 25-2024 میں ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) میں مجوزہ ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے اسکیم کو 2021 کی اصل شکل میں بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بدھ کے روز پی ایچ ایم اے ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مختلف ایسوسی ایشنز کے رہنماؤں نے درآمدی مرحلے پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کی سخت مخالفت کی اور اسے برآمدی صنعت کی مشکلات میں اضافے کا سبب قرار دیا۔
پریس کانفرنس میں ایسوسی ایشنز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایس آر او 957(I)/2021 کی دفعہ 880(1)(b) کے تحت اسکیم کو جاری رکھے، جس کے تحت مقامی ان پٹ اشیاء جو سیلز ٹیکس کے دائرے میں آتی ہیں، زیرو ریٹیڈ انوائسز پر فراہم کی جا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ شق برآمد کنندگان کی لیکویڈیٹی، مسابقت اور ویلیو چین کی رسمی معیشت میں منتقلی کے لیے ناگزیر ہے۔
فورم کے چیف کوآرڈینیٹر جاوید بلوانی نے کہا کہ ای ایف ایس برآمدات بڑھانے کے لیے لائف لائن ہے اور اس اسکیم کی بدولت برآمدی شعبے کو سہولت ملی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اپٹما نے بھی ابتدائی طور پر اس اسکیم کا خیرمقدم کیا تھا، لیکن اب وہ درآمدی مرحلے پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کا مطالبہ کر رہی ہے جس سے اسکیم کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا۔
جاوید بلوانی نے بتایا کہ اپٹما نے بین الوزارتی اجلاس میں خود اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کا مقامی کاٹن سے تیار کردہ یارن، درآمدی یارن کے معیار کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ٹاپ 100 برآمد کنندگان، جن میں کئی کمپوزٹ یونٹس بھی شامل ہیں، ای ایف ایس کو اس کی اصل شکل میں برقرار رکھنے کے حامی ہیں۔
پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین محمد بابر خان نے کہا کہ ای ایف ایس کے خلاف اپٹما کا مطالبہ گمراہ کن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکسٹائل کا اسپننگ سیکٹر صرف ایک ذیلی شعبہ ہے، جب کہ ویلیو ایڈیڈ سیکٹر پورے ویلیو چین کی نمائندگی کرتا ہے۔
بابر خان نے کہا کہ پاکستان میں مینوفیکچرنگ لاگت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور ویلیو ایڈیڈ سیکٹر، جو 70 فیصد تک ویلیو ایڈیشن فراہم کرتا ہے، اپنی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے ای ایف ایس جیسی سہولیات کا محتاج ہے۔
انہوں نے کہا کہ ای ایف ایس ایک ڈیجیٹل، خودکار اور شفاف نظام ہے جو ویبوک اور پی ایس ڈبلیو کے ذریعے مکمل ٹریس ایبلٹی فراہم کرتا ہے اور اس کا مقصد برآمدی عمل کو آسان اور مؤثر بنانا ہے۔
ایسوسی ایشنز کے رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے ممالک بھی درآمدی خام مال پر انحصار کرتے ہیں اور ان کی حکومتیں برآمدی سہولتیں فراہم کرتی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو بھی مساوی سہولتیں فراہم کرنی ہوں گی تاکہ عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھی جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ برآمدات پر سیلز ٹیکس عائد کرنا اور پھر اس کی واپسی کا انتظار کروانا کسی منطقی عمل کا حصہ نہیں، بلکہ یہ برآمد کنندگان کے لیے مالی مسائل کو مزید بڑھا دے گا۔
پریس کانفرنس میں زور دیا گیا کہ ایف بی آر کو موجودہ برآمد کنندگان پر بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ میں وسعت لانی چاہیے۔ ایسوسی ایشنز نے مطالبہ کیا کہ ای ایف ایس کو 2021 کی اصل شکل میں بحال کیا جائے اور اس میں مقامی خریداری کو دوبارہ شامل کیا جائے۔
پریس کانفرنس میں جاوید بلوانی، محمد بابر خان، اعجاز کھوکھر، رفیق گوڈیل، فاروق رحمان، اطہر باری، عرفان مرچنٹ، خرم مختار، حمید ارشد ظہور، اور دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ کراچی، لاہور، فیصل آباد، اور سیالکوٹ کے معروف برآمد کنندگان بھی موجود تھے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.