BR100 Increased By (0.11%)
BR30 Increased By (0.06%)
KSE100 Decreased By (-0.06%)
KSE30 Increased By (0.07%)
BAFL 56.99 Increased By ▲ 0.25 (0.44%)
BIPL 26.82 Decreased By ▼ -0.22 (-0.81%)
BOP 33.40 Decreased By ▼ -0.28 (-0.83%)
CNERGY 10.22 Increased By ▲ 0.41 (4.18%)
DFML 18.09 Decreased By ▼ -0.43 (-2.32%)
DGKC 208.55 Increased By ▲ 0.68 (0.33%)
FABL 98.60 Decreased By ▼ -0.30 (-0.3%)
FCCL 53.74 Increased By ▲ 0.22 (0.41%)
FFL 16.42 Decreased By ▼ -0.26 (-1.56%)
GGL 23.85 Increased By ▲ 0.28 (1.19%)
HBL 302.70 Decreased By ▼ -1.69 (-0.56%)
HUBC 219.12 Increased By ▲ 1.01 (0.46%)
HUMNL 10.55 Decreased By ▼ -0.11 (-1.03%)
KEL 7.20 Decreased By ▼ -0.15 (-2.04%)
LOTCHEM 29.35 Increased By ▲ 0.24 (0.82%)
MLCF 96.00 Increased By ▲ 0.50 (0.52%)
OGDC 318.00 Increased By ▲ 0.06 (0.02%)
PAEL 41.82 Decreased By ▼ -0.01 (-0.02%)
PIBTL 16.59 Increased By ▲ 0.09 (0.55%)
PIOC 296.11 Increased By ▲ 16.10 (5.75%)
PPL 220.00 Increased By ▲ 0.26 (0.12%)
PRL 48.03 Increased By ▲ 3.44 (7.71%)
SNGP 106.60 Decreased By ▼ -0.89 (-0.83%)
SSGC 29.05 Increased By ▲ 0.12 (0.41%)
TELE 8.84 Increased By ▲ 0.08 (0.91%)
TPLP 12.22 Increased By ▲ 0.12 (0.99%)
TRG 60.19 Increased By ▲ 0.16 (0.27%)
UNITY 10.05 Decreased By ▼ -0.06 (-0.59%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.81%)

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اقوام متحدہ ہیڈکوارٹر نیویارک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت پر پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات پر آمادہ ہونے کے لیے دباؤ ڈالیں تاکہ حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن قائم ہو۔

یہ بیان ایک اعلیٰ سطح پاکستانی وفد کے دورہ نیویارک کے موقع پر دیا گیا جس میں سابق وزرائے خارجہ بلاول بھٹو، حنا ربانی کھر اور خرم دستگیر کے علاوہ سینیٹر شیری رحمٰن، مصدق ملک، فیصل سبزواری، بشریٰ انجم بٹ، اور سابق سفارتکار جلیل عباس جیلانی و تہمینہ جنجوعہ شامل تھے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کی پوزیشن واضح ہے کہ بھارت کے ساتھ دہشت گردی سمیت تمام امور پر ایک جامع مذاکراتی عمل کا آغاز ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا نشانہ رہا ہے اور سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کو جواز بنا کر پاکستان میں ’آپریشن سندور‘ کے تحت اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عام شہریوں، عبادت گاہوں اور انفراسٹرکچر پر حملے کیے۔

انہوں نے بتایا کہ ان حملوں کے بعد پاکستان نے جوابی کارروائی کی، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کی مداخلت سے فائر بندی ممکن ہوئی۔

بلاول بھٹو نے بھارت پر آبی جارحیت کا الزام بھی لگایا اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کو جنگی اقدام قرار دیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس نئی پیش رفت کو معمول بنانے کی بھارتی کوششوں کو ناکام بنائے۔

وفد نے او آئی سی کے مستقل نمائندوں سے ملاقات میں بھی بھارت کی جانب سے پاکستان پر الزامات اور سرحد پار حملوں کو مسترد کیا اور زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔

بلاول بھٹو نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی بحالی، جنگ بندی کے احترام اور سندھ طاس معاہدے کی مکمل بحالی کو یقینی بنائے تاکہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام ممکن ہو سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.