BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.23%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.64 (3.66%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.20 Decreased By ▼ -0.51 (-0.54%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 198.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
HUMNL 9.75 Decreased By ▼ -0.10 (-1.02%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 90.33 Decreased By ▼ -0.90 (-0.99%)
OGDC 315.40 Increased By ▲ 2.01 (0.64%)
PAEL 34.73 Decreased By ▼ -0.51 (-1.45%)
PIBTL 14.23 Decreased By ▼ -0.48 (-3.26%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 90.89 Decreased By ▼ -0.33 (-0.36%)
SNGP 90.30 Decreased By ▼ -0.57 (-0.63%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 7.40 Decreased By ▼ -0.21 (-2.76%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 54.35 Decreased By ▼ -1.44 (-2.58%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اقوام متحدہ ہیڈکوارٹر نیویارک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت پر پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات پر آمادہ ہونے کے لیے دباؤ ڈالیں تاکہ حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن قائم ہو۔

یہ بیان ایک اعلیٰ سطح پاکستانی وفد کے دورہ نیویارک کے موقع پر دیا گیا جس میں سابق وزرائے خارجہ بلاول بھٹو، حنا ربانی کھر اور خرم دستگیر کے علاوہ سینیٹر شیری رحمٰن، مصدق ملک، فیصل سبزواری، بشریٰ انجم بٹ، اور سابق سفارتکار جلیل عباس جیلانی و تہمینہ جنجوعہ شامل تھے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کی پوزیشن واضح ہے کہ بھارت کے ساتھ دہشت گردی سمیت تمام امور پر ایک جامع مذاکراتی عمل کا آغاز ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا نشانہ رہا ہے اور سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کو جواز بنا کر پاکستان میں ’آپریشن سندور‘ کے تحت اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عام شہریوں، عبادت گاہوں اور انفراسٹرکچر پر حملے کیے۔

انہوں نے بتایا کہ ان حملوں کے بعد پاکستان نے جوابی کارروائی کی، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کی مداخلت سے فائر بندی ممکن ہوئی۔

بلاول بھٹو نے بھارت پر آبی جارحیت کا الزام بھی لگایا اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کو جنگی اقدام قرار دیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس نئی پیش رفت کو معمول بنانے کی بھارتی کوششوں کو ناکام بنائے۔

وفد نے او آئی سی کے مستقل نمائندوں سے ملاقات میں بھی بھارت کی جانب سے پاکستان پر الزامات اور سرحد پار حملوں کو مسترد کیا اور زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔

بلاول بھٹو نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی بحالی، جنگ بندی کے احترام اور سندھ طاس معاہدے کی مکمل بحالی کو یقینی بنائے تاکہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام ممکن ہو سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.