حکومت نے مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں ایک جرات مندانہ دستاویزی اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت غیر رجسٹرڈ سیلز ٹیکس دہندگان پر عائد 4 فیصد ”فردر سیلز ٹیکس“ ختم کیا جائے گا، جبکہ اس اقدام کے ذریعے کاروبار کی مکمل سپلائی چین کو رجسٹر کرنے کا ہدف حاصل کیا جائے گا، حالانکہ اس سے ابتدائی طور پر ایف بی آر کو ریونیو میں خاطر خواہ کمی کا سامنا ہو گا۔
ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا ہے کہ ”فردر سیلز ٹیکس“ کے خاتمے سے ایف بی آر کو وقتی نقصان ضرور ہو گا، تاہم طویل المدتی بنیادوں پر اس اقدام کے نتیجے میں زیادہ ریونیو حاصل ہو گا، کیونکہ اس سے مینوفیکچرنگ سے لے کر ریٹیل آؤٹ لیٹس تک پوری سپلائی چین کو دستاویزی نظام میں لایا جا سکے گا۔
یہی صورتحال درآمد کنندگان کے ساتھ بھی ہے جہاں درآمد شدہ اشیاء کی بعد ازاں فروخت کا سلسلہ بھی سیلز ٹیکس رجسٹریشن سے باہر ہے۔
غیر رجسٹرڈ سیلز ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس کے نان فائلر کی طرز پر کاروبار کرنے کی اجازت حاصل ہے، اور وہ زیادہ ودہولڈنگ ٹیکس یا سیلز ٹیکس کی مد میں فردر ٹیکس ادا کر کے لین دین جاری رکھتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، فردر سیلز ٹیکس کے خاتمے کے ذریعے وقتی طور پر محصولات میں کمی آئے گی، مگر طویل مدت میں اس سے حاصل ہونے والا ریونیو کہیں زیادہ ہو گا۔
مالیاتی بل 26-2025 کے ذریعے، ایف بی آر نے سیلز ٹیکس ایکٹ میں ترامیم کی تجویز دی ہے تاکہ سپلائی چین کے تمام طبقات کو سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے تحت لایا جا سکے۔
واضح رہے کہ سال 2023 میں ترمیم شدہ مالیاتی بل کے ذریعے ”فردر سیلز ٹیکس“ کی شرح 3 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد کر دی گئی تھی تاکہ غیر رجسٹرڈ افراد کو فروخت کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
فی الوقت، کسی رجسٹرڈ شخص کی جانب سے غیر رجسٹرڈ یا غیر فعال ٹیکس دہندگان کو فراہم کردہ قابل ٹیکس اشیاء پر 4 فیصد ”فردر ٹیکس“ عائد کیا جاتا ہے، جیسا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 3 کی ذیلی شق (1A) کے تحت لاگو ہے۔
حکام کے مطابق، اس وقت سیلز ٹیکس کی ادائیگی کرنے والے رجسٹرڈ افراد کی تعداد 40,000 سے 60,000 کے درمیان ہے، جن میں سے اکثر بہت معمولی رقم ہی سیلز ٹیکس کی مد میں جمع کراتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.