پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں گزشتہ روز کے 800 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے بعد منگل کے روز تیزی کا رجحان بحال ہوا جہاں کے ایس ای-100 انڈیکس کاروباری دن کی نئی بلند ترین سطح 120,450 پوائنٹس پر بند ہوا۔
پورے کاروباری سیشن کے دوران خریداری کا رجحان غالب رہا، جس نے کے ایس ای-100 انڈیکس کو انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 120,693.83 پوائنٹس تک پہنچا دیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,573.07 پوائنٹس یا 1.32 فیصد اضافے کے ساتھ 120,450.87 پوائنٹس پر بند ہوا۔
جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج مارکیٹ میں مثبت رجحانات دیکھے گئے، جس کی وجہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کا یہ بیان تھا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ آئندہ وفاقی بجٹ کے حوالے سے مذاکرات کامیاب رہے ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پیر کے روز کہا تھا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ آئندہ وفاقی بجٹ کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کامیاب رہے ہیں، جو معیشت کی ترقی کے ایک نئے مرحلے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔
وزیرِ اعظم نے منتخب صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے معیشت کو مستحکم کر دیا ہے اور اب اس کی توجہ مستقل ترقی پر مرکوز ہو گی۔
دریں اثنا پاکستان کویت انویسٹمنٹ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے سربراہ سمیع اللہ طارق نے کہا کہ حکومت کی آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ اصلاحات پر عملداری نے پائیدار اقتصادی ترقی کو ممکن بنایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کی ایک اور وجہ اہم شعبوں میں جاری کمائی کا رجحان اور معیشت کے مستقبل کے بارے میں نسبتاً مستحکم نقطۂ نظر بھی ہے۔
اہم شعبوں جیسے سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، او ایم سیز اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں میں خریداری دیکھی گئی۔ حبکو، ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی، او جی ڈی سی، پی پی ایل، ایم سی بی، ایم ای بی ایل اور یو بی ایل میں مثبت رجحان دیکھا گیا۔
یاد رہے کہ پیر کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ہفتے کے پہلے کاروباری روز اتار چڑھاؤ سے بھرپور سیشن دیکھاگیا تھا، جہاں ابتدائی تیزی آخری گھنٹوں میں فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے ختم ہو گئی اور کاروبار منفی زون میں بند ہوا۔
گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس 813.29 پوائنٹس یا 0.68 فیصد کی کمی سے 118,878 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر منگل کو ایشیائی حصص بازار احتیاط کے ساتھ معمولی اضافہ کرتے ہوئے اوپر گئے جب کہ امریکی ڈالر چھ ہفتوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا، کیونکہ غیر مستحکم امریکی تجارتی پالیسیاں مارکیٹوں پر منفی اثر ڈال رہی ہیں اور سرمایہ کار ہفتے کے اہم واقعات سے قبل محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی رہنما شی جن پنگ رواں ہفتے بات چیت کر سکتے ہیں، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ نے پیر کو کہا کہ چند دن بعد جب ٹرمپ نے چین پر محصولات اور تجارتی پابندیاں کم کرنے کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کو مارکیٹس میں بڑی توجہ سے دیکھا جائے گا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس سال ٹیرف کی وجہ سے عالمی حصص بازاروں اور امریکی ڈالر کو پہنچنے والا دھچکا کم ہو گا یا بڑھ جائے گا، کیونکہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی کشیدگی برقرار ہے۔
پیر کو جاری ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ مئی میں امریکی صنعت سازی مسلسل تیسرے ماہ سکڑ گئی ہے اور ٹیرف کے باعث سپلائرز نے تقریباً تین سال میں سب سے زیادہ وقت لے کر ضروری اشیاء کی فراہمی کی۔
امریکی فیوچرز ایشیائی سیشن کے آغاز میں گرگئے اور وال اسٹریٹ پر رات بھر حاصل کی گئی معمولی بڑھوتری کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔
نیسڈک فیوچرز اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز دونوں 0.2 فیصد کی کمی کے ساتھ بند ہوئے۔ یورپ میں، یورو اسٹوکس 50 فیوچرز میں 0.28 فیصد اضافہ جبکہ ایف ٹی ایس ای فیوچرز میں 0.15 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسفک کا سب سے وسیع انڈیکس، جو جاپان کے علاوہ دیگر حصص کو شامل کرتا ہے 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا، جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس 0.66 فیصد بڑھا۔


Comments
Comments are closed.