اسٹاک ایکسچینج: آخری لمحات میں فروخت کا دباؤ، 100 انڈیکس 800 سے زائد پوائنٹس کمی کے ساتھ بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کے روز کاروباری سرگرمیاں اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں۔ ابتدائی سیشن میں کے ایس ای-100 انڈیکس میں تیزی کا رجحان دیکھا گیا تاہم آخری لمحات میں فروخت کے دباؤ کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 800 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
کے ایس ای-100 انڈیکس نے کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں کیا اور انٹرا ڈے کے دوران بلند ترین سطح 120,590.77 پوائنٹس تک پہنچا۔
تاہم اختتامی گھنٹوں میں فروخت کے دباؤ نے کے ایس ای 100 انڈیکس کو نیچے دھکیل دیا، جس کے باعث یہ ایک موقع پر 118,672.84 کی کم ترین سطح تک گر گیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای-100 انڈیکس 813.29 پوائنٹس (0.68 فیصد) کمی کے ساتھ 118,877.81 پوائنٹس پر بند ہوا۔
اہم شعبوں جیسے سیمنٹ، کمرشل بینکس، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، او ایم سیز اور ریفائنریز میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ پی آر ایل، حبکو، پی ایس او، ایس این جی پی ایل، ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل اور پی پی ایل مثبت زون میں دیکھے گئے ۔
گزشتہ ہفتے جو 30 مئی کو ختم ہوا اسٹاک ایکسچینج میں تیزی دیکھی گئی تاہم سرمایہ کار وفاقی بجٹ میں ممکنہ ٹیکس سے متعلق اعلانات کے انتظار میں تھے جس کی وجہ سے منافع محدود رہا۔
ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 588 پوائنٹس یا 0.49 فیصد اضافے سے 119,691 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر پیر کو ایشیائی شیئر مارکیٹس اور ڈالر میں ہلکی پھلکی کمی دیکھی گئی کیونکہ امریکی-چینی تجارتی کشیدگی برقرار رہی جبکہ سرمایہ کار اہم امریکی روزگار کے اعداد و شمار اور یورپی شرح سود میں متوقع کمی کے پیش نظر محتاط رویہ اپنائے ہوئے تھے۔
جمعہ کی رات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درآمدی اسٹیل اور ایلومینیم پر کسٹمز ڈیوٹی کو 50 فیصد تک دگنا کرنے کے اعلان کے باوجود جس کا نفاذ 4 جون سے متوقع تھا، مارکیٹ میں کوئی خاص ردعمل نہیں آیا، مگر اس اچانک فیصلے نے یورپی یونین کے مذاکرات کاروں کے شدید غصے کو جنم دے دیا۔
اتوار کو گفتگو کرتے ہوئے ٹریژری سیکرٹری اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ٹرمپ جلد ہی چینی صدر شی جن پنگ سے اہم معدنیات پر تنازعہ حل کرنے کے لیے بات کریں گے۔
بعد ازاں بیجنگ نے ٹرمپ کی تجارتی تنقید کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ بات چیت ابھی کچھ وقت کی دور ہے۔
وائٹ ہاؤس کے عہدیداروں نےعدالت کے فیصلے کو بھی کم اہمیت دی جو کہتا ہے کہ ٹرمپ نے امریکی تجارتی شراکت داروں سے درآمدات پر یکساں محصولات عائد کرنے میں اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے۔
مارکیٹس خاص طور پر اس بات پر توجہ دیں گی کہ آیا ٹرمپ بدھ کو 50 فیصد ٹیکس نافذ کرتے ہیں یا پہلے کی طرح پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
جنوبی کوریا کے اسٹاکز میں 0.2 فیصد اضافہ دیکھا گیا کیونکہ امید ہے کہ منگل کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں واضح فاتح سامنے آئے گا۔
یورو اسٹوکس 50 فیوچرز 0.2 فیصد کمی کے ساتھ مستحکم رہے، جبکہ ایف ٹی ایس ای اور ڈی اے ایکس فیوچرز میں معمولی تبدیلی ہوئی۔
ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.4 فیصد کمی پر آئے اور نیسڈیک فیوچرز 0.5 فیصد گرگئے۔


Comments
Comments are closed.