ریڈیو پاکستان کے مطابق بھارتی جارحیت کیخلاف سفارتی مہم کیلئے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں 9 رکنی پارلیمانی وفد پیر کے روز (کل) دو روزہ دورے پر نیویارک روانہ ہوگا۔
وفد بھارت کے ساتھ حالیہ عسکری جھڑپ پر پاکستان کا مؤقف پیش کرے گا اور اس تنازع سے متعلق نئی دہلی کی ”غلط معلومات پر مبنی مہم“ کا مؤثر جواب دے گا۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن بھارت کی ”نئی جارحانہ روش“ — جیسا کہ 2019 کی جنگی کشیدگی — کروڑوں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ حل طلب تنازعات مستقبل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مہلک جوہری تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔
دفتر خارجہ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے، جہاں انہیں بریفنگ دی گئی، بلاول بھٹو نے کہا کہ عالمی برادری کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دو جوہری طاقتیں کسی بھی قسم کی غلط فہمی کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ وہ جارح نہیں ہے اور غیر ملکی حکومتوں کے سامنے ثبوت پیش کیے جائیں گے کہ بھارت کا بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد بھارت کے ”جارحانہ پراپیگنڈے“ کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان نے ایک بڑی سفارتی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھارت کی پاکستان مخالف عزائم اور جارحانہ اقدامات کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بلاول کو ایک اعلیٰ سطح وفد کی قیادت سونپی ہے جس میں سینیئر سیاستدان اور سفارتکار، جیسے شیری رحمان، حنا ربانی کھر، سابق سفرا جلیل عباس جیلانی اور تہمینہ جنجوعہ شامل ہیں۔ یہ ٹیم دنیا بھر کے ممالک کو مسئلہ کشمیر، دہشت گردی، اور سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی پالیسیوں پر بریف کرے گی۔ وفد دنیا کو یہ باور کرائے گا کہ بھارت کی طرف سے آبی وسائل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوششیں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔


Comments
Comments are closed.