وزیرِاعظم آفس نے پاور ڈویژن سے ریکوری کی بنیاد پر کی جانیوالی لوڈشیڈنگ پر رپورٹ طلب کرلی
- نیپرا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) اور کے-الیکٹرک پر ایسی لوڈ مینجمنٹ پریکٹسز نافذ کرنے پر جرمانے عائد کر رہی ہے
وزیرِاعظم کے دفتر (پی ایم او) نے پاور ڈویژن سے اس مجوزہ پالیسی پر تازہ ترین اپ ڈیٹ طلب کی ہے جس کا مقصد ریکوری کی بنیاد پر کی جانے والی لوڈشیڈنگ کو قانونی حیثیت دینا ہے۔ اس وقت نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) اور کے-الیکٹرک پر ایسی لوڈ مینجمنٹ پریکٹسز نافذ کرنے پر جرمانے عائد کر رہی ہے، کیونکہ یہ ریگولیٹری قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔
یہ اقدام وزیرِاعظم کی جانب سے پاور ڈویژن کو دی گئی وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر موجود قانونی رکاوٹوں کا خاتمہ کرنا ہے۔
تاہم وزارتِ خزانہ نے اس منصوبے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ اگرچہ کم ریکوری والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ سے بجلی کی زیادہ لاگت سے بچا جا سکتا ہے، لیکن حکومت کو غیر استعمال شدہ بجلی پر کیپیسٹی پے منٹس کی ادائیگی کرنا پڑتی ہے، جس سے اس پالیسی کی مجموعی اقتصادی منطق مشکوک ہو جاتی ہے۔
گزشتہ سال فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) سے متعلق ایک عوامی سماعت کے دوران، نیپرا کے چیئرمین چوہدری وسیم مختار نے تصدیق کی تھی کہ آمدنی کی بنیاد پر کی جانے والی لوڈشیڈنگ فی الوقت غیر قانونی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ریگولیٹر اس پر یوٹیلٹی کمپنیوں کو جرمانہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر حکومت اس عمل کو جاری رکھنا چاہتی ہے تو اسے قانونی حیثیت دینا ہوگی۔
چیئرمین کے ان بیانات کے بعد، پاور ڈویژن نے ”ملک میں معاشی بنیاد پر لوڈ مینجمنٹ کے نفاذ کے لیے قانونی فریم ورک میں ترامیم“ کے عنوان سے ایک مجوزہ پالیسی کی تیاری شروع کی۔ اس پالیسی کا مقصد ریکوری اور اے ٹی اینڈ سی (ایگریگیٹ ٹیکنکل اینڈ کمرشل) نقصانات کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کو قانونی اور ریگولیٹری نظام کا حصہ بنانا ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف نے 15، 18 اور 25 اپریل 2024 کو اس معاملے پر متعدد اجلاسوں کی صدارت کی، جن میں انہوں نے موجودہ قوانین و پالیسیوں کے جائزے اور ان میں ضروری ترامیم کی ہدایات جاری کیں۔ اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی)، سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے)، لاء ڈویژن، نیپرا اور آزاد قانونی ماہرین کے نمائندے شامل ہیں۔
پاور ڈویژن نے اس مجوزہ پالیسی کا ڈرافٹ متعلقہ وزارتوں کو رائے کے لیے ارسال کیا تاکہ اسے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)، کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) یا وفاقی کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جا سکے۔
وزارتِ خزانہ نے اپنی رائے میں نشاندہی کی کہ اس سمری میں دعوئوں کی حمایت کے لیے کوئی جامع اعدادوشمار موجود نہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اگرچہ زیادہ نقصانات والے علاقوں میں جزوی طور پر لوڈشیڈنگ قابلِ جواز ہو سکتی ہے، لیکن بجلی پیدا کرنے کے باوجود اس کا استعمال نہ ہونے پر کیپیسٹی چارجز کی ادائیگی ایک بڑا مالی بوجھ ہے۔
دوسری جانب پاور ڈویژن کا مؤقف ہے کہ ڈسکوز کو اقتصادی مجبوریوں کے باعث زیادہ نقصانات والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کرنا پڑتی ہے۔ مرکزی پاور پول سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ، کم ریکوری والے علاقوں کو مہنگی بجلی کی مسلسل فراہمی مالی طور پر ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔ لہٰذا، ایک منظم اور قانونی طور پر تسلیم شدہ لوڈشیڈنگ نظام کا نفاذ توانائی کے شعبے کی مالی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ نیپرا اس مجوزہ ترمیم کی مخالفت جاری رکھے ہوئے ہے اور اس نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے اپنا مؤقف دہراتے ہوئے زور دیا ہے کہ پاور ڈویژن کو اقتصادی فوائد و نقصانات پر مشتمل ایک تفصیلی تقابلی تجزیہ پیش کرنا چاہیے۔ کابینہ نے بھی ہدایت کی ہے کہ پاور ڈویژن واضح طور پر اس پالیسی کے فوائد بیان کرے، خاص طور پر لاگت سے بچاؤ اور نظام کی پائیداری کے تناظر میں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.