BR100 Decreased By (-0.64%)
BR30 Decreased By (-0.93%)
KSE100 Decreased By (-0.53%)
KSE30 Decreased By (-0.52%)
BAFL 56.49 Increased By ▲ 0.02 (0.04%)
BIPL 24.78 Increased By ▲ 0.15 (0.61%)
BOP 29.98 Decreased By ▼ -0.14 (-0.46%)
CNERGY 12.76 Decreased By ▼ -0.22 (-1.69%)
DFML 18.24 Increased By ▲ 0.75 (4.29%)
DGKC 184.75 Decreased By ▼ -2.47 (-1.32%)
FABL 93.33 Decreased By ▼ -0.38 (-0.41%)
FCCL 51.08 Decreased By ▼ -0.57 (-1.1%)
FFL 14.34 Decreased By ▼ -0.15 (-1.04%)
GGL 18.97 Decreased By ▼ -0.07 (-0.37%)
HBL 301.99 Decreased By ▼ -1.79 (-0.59%)
HUBC 197.50 Decreased By ▼ -1.46 (-0.73%)
HUMNL 9.80 Decreased By ▼ -0.05 (-0.51%)
KEL 6.03 Decreased By ▼ -0.03 (-0.5%)
LOTCHEM 26.01 Decreased By ▼ -0.16 (-0.61%)
MLCF 89.34 Decreased By ▼ -1.89 (-2.07%)
OGDC 312.89 Decreased By ▼ -0.50 (-0.16%)
PAEL 34.89 Decreased By ▼ -0.35 (-0.99%)
PIBTL 14.45 Decreased By ▼ -0.26 (-1.77%)
PIOC 234.14 Decreased By ▼ -5.48 (-2.29%)
PPL 218.62 Decreased By ▼ -2.74 (-1.24%)
PRL 91.30 Increased By ▲ 0.08 (0.09%)
SNGP 90.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.44%)
SSGC 22.97 Decreased By ▼ -0.33 (-1.42%)
TELE 7.41 Decreased By ▼ -0.20 (-2.63%)
TPLP 11.97 Decreased By ▼ -0.59 (-4.7%)
TRG 55.01 Decreased By ▼ -0.78 (-1.4%)
UNITY 7.98 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد جاوید بلوانی نے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ بجلی کے بلوں پر اضافی کھپت کے حوالے سے 23ارب روپے کی دیرینہ سبسڈی کو بلا تاخیر جاری کیا جائےاور آنے والے وفاقی بجٹ 2025-26 میں اسکے لیے باقاعدہ گنجائش رکھی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ سبسڈی گزشتہ متعدد بجٹ میں مختص کی گئی تھی لیکن صرف کراچی کے صنعتی شعبے کواب تک یہ سہولت نہیں ملی جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں یہ فراہم کی جا چکی ہے جس سے کراچی کی صنعتوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔

صدرکے سی سی آئی نے وزیراعظم کو ارسال کئے گئے خط میں کے سی سی آئی کی جانب سے حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تاجربرادری کے مسائل کے حل اور معیشت کو بہتر بنانےکے لیےاقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم انہوں نے یکم جولائی 2021 سے 21 اکتوبر 2023 تک کی مدت کے لیے اضافی بجلی کھپت پر سبسڈی کی ادائیگی میں تاخیر پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس مدت کے لیے مجموعی سبسڈی 33 ارب روپے بنتی ہے جس میں سے 23 ارب روپے غیر متنازع ہیں جو جاری کی جانا چاہیے تھی۔ مالی سال2021-22 میں 22ارب، 2022-23 میں 13 ارب اور 2023-24 میں 7 ارب روپے مختص کیے گئے لیکن کے الیکٹرک سے متعلق قانونی اور طریقہ کار کی پیچیدگیوں کے باعث یہ رقم بطور ریلیف نہیں پہنچ سکی۔

انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک نے تقریباً 9 ماہ تک کسی حکمِ امتناعی کے بغیر کام کیا لیکن سبسڈی صارفین تک نہیں پہنچائی جسکی بڑی وجہ نیپرا کی جانب سے تعمیل نہ کروانے اور بعد کی قانونی رکاوٹیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ جولائی 2024 میں ٹریبونل نے کے الیکٹرک کی اپیلیں مسترد کر دی تھیں اور معاملہ اب بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکمِ امتناعی کی وجہ سے زیرِالتوا ہے۔

صدرکے سی سی آئی نے پاور ڈویژن اور نیپرا سے فوری طور پر سبسڈی کے اعداد و شمار کی تصدیق کرنے اور آنے والے وفاقی بجٹ میں اس رقم کو شامل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ غیر متنازع 23 ارب روپے کے الیکٹرک کے بجائے براہ راست صنعتی صارفین کو دیے جائیں تاکہ مزید تاخیر سے بچا جا سکے۔

Comments

Comments are closed.