وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز واضح کیا کہ پاکستان، بھارت کو سندھ طاس معاہدے کو معطل کرکے ”ریڈ لائن“ عبور کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔
تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں منعقدہ ”گلیشیئرز کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس 2025“ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر معطل کرنا نہایت قابل افسوس ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاکھوں افراد کی زندگیاں تنگ نظر سیاسی مفادات کی بھینٹ نہیں چڑھنی چاہئیں۔
وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اور فوری اقدام پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کو موسمیاتی مالی وعدوں پر بلا تاخیر عمل کرنا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ موسمیاتی لحاظ سے پائیدار بنیادی ڈھانچے کے لیے مناسب فنڈنگ اور مالیاتی خلا کو ختم کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی وارننگ سسٹمز، آفات سے نمٹنے اور تیاری کے نظام میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے نشاندہی کی کہ پاکستان قطبی خطوں کے علاوہ دنیا کے سب سے بڑے گلیشیئر علاقوں میں سے ایک کا حامل ملک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گلیشیئرز پاکستان کے سندھ طاس آبی نظام کے سالانہ بہاؤ کا تقریباً نصف حصہ فراہم کرتے ہیں، جو ہماری تہذیب، ثقافت اور معیشت کی شہ رگ ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے جغرافیائی خدوخال کو تشکیل دینے والے پانچ بڑے دریا — سندھ، جہلم، چناب، راوی اور ستلج — گلیشیئر نظام کے استحکام پر منحصر ہیں۔ اس لیے پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں اور خاص طور پر گلیشیئرز پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔


Comments
Comments are closed.