چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود نے جمعرات کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کہا کہ حکومت بجٹ 26-2025 میں سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر تمام اقسام کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجاویز پر کام کر رہا ہے، جس میں درآمدی سولر پینلز پر دی گئی چھوٹ بھی شامل ہے۔
دوسری جانب، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں آئل ریفائنریز کے نمائندوں نے بریفنگ میں بتایا کہ ان کی ان پٹ پر ٹیکس لاگو ہے جبکہ آؤٹ پٹ پر کوئی جی ایس ٹی نہیں، جس کی وجہ سے کئی برسوں سے مسائل کا سامنا ہے۔ اگر یہ مسئلہ حل نہ کیا گیا تو وہ 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نہیں کر سکیں گے۔
چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ ان کا کاروبار ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) کے دائرہ کار سے باہر آ چکا ہے کیونکہ آؤٹ پٹ پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں۔ اس مسئلے کے مستقل حل کیلئے یا تو آؤٹ پٹ پر سیلز ٹیکس عائد کرنے یا کسی اور متبادل نظام کی تجاویز زیر غور ہیں۔
مزید برآں، چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو یقین دہانی کروائی کہ وہ کراچی کے مشہور ریسٹورنٹ ”کباب جی“ سے 8 کروڑ روپے سے زائد کی ریکوری کے معاملے کی تحقیق کریں گے۔
کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر نے مختلف فورمز پر سنے بغیر ریسٹورنٹ کے اکاؤنٹس سے 8 کروڑ روپے سے زائد رقم نکال لی ہے۔ اب اس کے پاس تنخواہیں دینے کے لیے بھی رقم نہیں اور مالک خودکشی کی دھمکی دے رہا ہے۔ کاروباری برادری ایف بی آر کی اس ہراسانی پر مجھ سے شکوہ کر رہی ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے جواب دیا کہ انہیں اس خاص کیس کا علم نہیں، تاہم وہ متعلقہ فیلڈ آفس سے معلومات لے کر کمیٹی کو آگاہ کریں گے۔
اجلاس میں انکم ٹیکس (سیکنڈ ترمیمی) بل 2025 پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے نئی شامل کی گئی شق (3اے) کے دوسرے جملے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ سیکریٹری ریونیو نے یقین دہانی کروائی کہ ارکان کے تحفظات کو دور کیا جائے گا اور الفاظ ”and shall cease to have effect after tax year 2025“ کو حذف کر دیا جائے گا۔ اس یقین دہانی کے بعد کمیٹی نے ترمیم شدہ بل کی منظوری کی سفارش کی۔
اجلاس میں ایم این اے عالیہ کامران کی جانب سے پیش کیا گیا سوال نمبر 38 (انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 99ڈی کے نفاذ سے متعلق) اور ایم این اے شرمیلا صاحبہ فاروقی ہشام کی جانب سے پیش کیا گیا سوال نمبر 40 (ڈیجیٹل کرنسیوں کو ترجیح دینے سے متعلق حالیہ پالیسی شفٹ پر) زیر بحث آئے۔ تفصیلی بحث کے بعد کمیٹی نے دونوں نکات کو آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا۔
ایم این اے سید رفی اللہ کی جانب سے اُٹھایا گیا اور معزز اسپیکر کی جانب سے بھجوایا گیا ”وفاقی حکومت کے اداروں میں کم از کم اجرت کے نفاذ نہ ہونے“ سے متعلق رپورٹ بھی محرک کی غیر موجودگی کے باعث مؤخر کر دی گئی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.