اسلام آباد میں حکام اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے کاربن مارکیٹس اور ماحولیاتی جدت (کلائمیٹ انوویشن) سے متعلق ایک مشترکہ حکمتِ عملی مرتب کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔
یہ پیش رفت وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق ملک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے اعلیٰ سطح وفد کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ وفد کی قیادت ٹورو کوبو، سینئر ڈائریکٹر کلائمیٹ چینج اینڈ سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ (سی سی ایس ڈی) نے کی۔ ملاقات کا مقصد کاربن مارکیٹس میں شراکت داری کے امکانات تلاش کرنا اور ایسی نئی ماحولیاتی حکمتِ عملی کی راہ ہموار کرنا تھا جو اقتصادی اور ماحولیاتی ہم آہنگی پر مبنی ہو۔
وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ ملاقات پاکستان کی قومی ماحولیاتی حکمتِ عملی کو عالمی بہترین تجربات اور مارکیٹ پر مبنی ماحولیاتی مالیاتی حل کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم قدم تھی۔
بیان کے مطابق دونوں فریقین نے ایک جامع، باہمی ہم آہنگ ماحولیاتی تبدیلی کی حکمتِ عملی مرتب کرنے پر اتفاق کیا، جس میں کاربن کریڈٹ کی تحرک کاری، ماحولیاتی جدت، اور نتائج پر مبنی منصوبہ بندی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
ملاقات کے دوران ڈاکٹر مصدق ملک نے اے ڈی بی کو مکمل وزارتی تعاون اور حکمتِ عملی کی تیاری میں براہِ راست شمولیت کی یقین دہانی کرائی، اور اس بات پر زور دیا کہ یہ حکمتِ عملی مؤثر، شفاف، اور نتائج پر مبنی ہونی چاہیے۔
ٹورو کوبو نے بھی اے ڈی بی کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ بینک اپنے ترقی پذیر رکن ممالک کو کم کاربن ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری، کاربن فنانس کی تیاری، اور عالمی کاربن مارکیٹس تک رسائی و استفادہ کی صلاحیت بڑھانے میں مدد فراہم کرتا رہے گا۔
دونوں فریقین نے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ پاکستان پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کو اپنی کاربن فنانس ایجنڈا سے کیسے مؤثر طور پر جوڑ سکتا ہے، تاکہ ماحولیاتی اقدامات کو اقتصادی قوت اور بین الاقوامی ساکھ کے ذریعے تقویت دی جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ چونکہ دنیا بھر میں کاربن مارکیٹس میں دلچسپی بڑھ رہی ہے، پاکستان اس بدلتے ہوئے مالیاتی نظام میں اپنی حکمتِ عملی کے ذریعے ایک علاقائی رہنما کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


Comments
Comments are closed.