BR100 Increased By (1.32%)
BR30 Increased By (1.33%)
KSE100 Increased By (1.25%)
KSE30 Increased By (1.31%)
BAFL 57.71 Increased By ▲ 0.51 (0.89%)
BIPL 27.34 Increased By ▲ 0.45 (1.67%)
BOP 34.30 Increased By ▲ 0.61 (1.81%)
CNERGY 10.93 Increased By ▲ 0.32 (3.02%)
DFML 18.46 Increased By ▲ 0.41 (2.27%)
DGKC 211.50 Increased By ▲ 1.60 (0.76%)
FABL 101.25 Increased By ▲ 2.30 (2.32%)
FCCL 54.31 Increased By ▲ 0.57 (1.06%)
FFL 16.83 Increased By ▲ 0.37 (2.25%)
GGL 24.00 Increased By ▲ 0.18 (0.76%)
HBL 305.00 Increased By ▲ 2.58 (0.85%)
HUBC 221.99 Increased By ▲ 3.05 (1.39%)
HUMNL 10.74 Increased By ▲ 0.20 (1.9%)
KEL 7.45 Increased By ▲ 0.17 (2.34%)
LOTCHEM 30.05 Increased By ▲ 0.40 (1.35%)
MLCF 97.29 Increased By ▲ 0.93 (0.97%)
OGDC 321.40 Increased By ▲ 3.18 (1%)
PAEL 42.45 Increased By ▲ 0.68 (1.63%)
PIBTL 17.00 Increased By ▲ 0.19 (1.13%)
PIOC 299.01 Increased By ▲ 2.39 (0.81%)
PPL 223.67 Increased By ▲ 3.50 (1.59%)
PRL 52.89 Increased By ▲ 3.84 (7.83%)
SNGP 107.02 Increased By ▲ 0.89 (0.84%)
SSGC 29.60 Increased By ▲ 0.46 (1.58%)
TELE 8.94 Increased By ▲ 0.12 (1.36%)
TPLP 12.77 Increased By ▲ 0.26 (2.08%)
TRG 60.00 Decreased By ▼ -0.22 (-0.37%)
UNITY 10.19 Increased By ▲ 0.17 (1.7%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)

افغان طالبان کے ایک سینئر کمانڈر نے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے نام سے سرگرم شدت پسند گروہوں – جنہیں اکثر خوارج بھی کہا جاتا ہے – کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ اسلامی امارت کی قیادت کی واضح اجازت کے بغیر پاکستان میں کسی بھی قسم کی پرتشدد کارروائی سے باز رہیں۔

طالبان کے سینئر رہنما سعیداللہ سعید نے پولیس کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جہاد کا اعلان صرف اسلامی ریاست کا امیر کر سکتا ہے، انفرادی یا گروہی بنیادوں پر کیا جانے والا جہاد نہ صرف شریعت کے خلاف ہے بلکہ فساد کے زمرے میں آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک، بشمول پاکستان، میں امیر کی اجازت کے بغیر لڑائی شریعت کے خلاف اور فساد ہے، نہ کہ جائز جہاد۔ انہوں نے مزید کہا کہ ذاتی وابستگی یا گروہی وفاداری کی بنیاد پر سرحد پار کارروائیاں اسلامی اصولوں اور افغان قیادت کی اتھارٹی دونوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

سعیداللہ سعید کا کہنا تھا، مختلف گروہوں میں شامل ہو کر بیرون ملک جہاد کرنا کسی کو سچا مجاہد نہیں بناتا۔ یہ اقدامات انا اور گروہ بندی پر مبنی ہوتے ہیں، نہ کہ دینی فریضے پر۔

انہوں نے مزید واضح کیا کہ اسلامی امارتِ افغانستان نے پاکستان-افغانستان سرحد پر کسی بھی غیر مجاز نقل و حرکت پر پابندی عائد کر رکھی ہے، اور ایسی سرگرمیاں امارت کی قیادت کی نافرمانی کے مترادف ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان میں سرحد پار شدت پسندی اور حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں سے کئی کی ذمہ داری ٹی ٹی پی سے منسلک گروہوں پر عائد کی جاتی ہے، جو مبینہ طور پر افغان سرزمین سے کام کر رہے ہیں۔

پاکستانی سیکیورٹی تجزیہ کاروں نے اس بیان کو خوش آئند قرار دیا ہے اور اسے سرحدی شدت پسندی پر قابو پانے کی ایک ممکنہ پیش رفت قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق طالبان کا یہ سرکاری موقف پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی کے مؤقف کو تقویت دیتا ہے، خاص طور پر جب یہ جائز مزاحمت اور مذہب کے نام پر کی جانے والی دہشت گردی میں فرق واضح کرتا ہے۔

ایک سینئر دفاعی تجزیہ کار نے ڈان سے گفتگو میں کہا، یہ بیان پاکستان کے داخلی سیکیورٹی بیانیے کو مضبوط کرتا ہے، غیر ریاستی عناصر کو تنہا کرتا ہے، اور اسلام آباد کے بین الاقوامی سفارتی مؤقف کو تقویت دیتا ہے۔

کمانڈر سعید کی وارننگ میں ان غیر ریاستی گروہوں کی غیر ملکی پشت پناہی کا حوالہ بھی موجود تھا جو خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خوارج کے نام سے کام کرنے والے یہ گروہ، جنہیں پاکستانی حکام اکثر بھارتی پراکسیز قرار دیتے ہیں، اپنے پرتشدد اقدامات کو دینی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں – ایک ہتھکنڈہ جسے سعید نے واضح طور پر مسترد کر دیا۔

خوارج کی اصطلاح – جو اسلامی تاریخ میں اُن باغیوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو مرکزی اسلامی تعلیمات سے انحراف کرتے ہیں – کو افغان طالبان اور پاکستانی حکام دونوں کی جانب سے ان گروہوں کو غیرقانونی قرار دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو ریاستی اتھارٹی سے باہر کام کرتے ہیں۔

سعید کے یہ ریمارکس افغان طالبان کے علاقائی شدت پسندی سے متعلق بدلتے ہوئے مؤقف کی عکاسی کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب طالبان خود حکمرانی کے چیلنجز اور عالمی تنہائی کا سامنا کر رہے ہیں۔

اسلام آباد کی جانب سے کابل پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ایسے گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کرے جو افغان سرزمین سے پاکستان کو نشانہ بناتے ہیں، اور اگرچہ کابل ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے، لیکن سعید جیسے بیانات اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ افغان طالبان کے اندر اب ان باغی عناصر پر قابو پانے کی ضرورت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔

Comments

Comments are closed.