پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ نے 2025 کے مردوں کے ایشیا کپ کو بھارت سے باہر نیوٹرل مقام پر منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی ہے۔
عماد شکیل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایشیا کپ ہمارے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ 2026 کے ہاکی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائنگ ٹورنامنٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹورنامنٹ کا مقام دوبارہ غور کرنے کا عندیہ دیا جانا چاہیے۔
عماد نے واضح کیا کہ پاکستان کی شرکت کا حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کی ہدایات کے مطابق ہوگا۔
قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ نے ٹیم کی جاری تیاریوں کے حوالے سے بتایا کہ کھلاڑی فی الحال ایف آئی ایچ نیشنز کپ کی تیاریاں کر رہے ہیں، جہاں اچھا مظاہرہ انہیں معزز پرو لیگ میں جگہ دلا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ پہلے میچ سے ہی تیز ہوگی۔ کھلاڑی پرعزم ہیں اور ہم مثبت نتائج دینے کے لیے پرعزم ہیں۔
عماد نے ہاکی پر مبنی نئی فلم کی تیاری کا خیرمقدم کیا اور اسے کھیل میں عوامی دلچسپی بحال کرنے کی سمت میں مثبت قدم قرار دیا۔
انہوں نے مزید تصدیق کی کہ کھلاڑیوں کے بقایا جات ادا کر دیے گئے ہیں، جس سے ٹیم کا حوصلہ بلند ہوا ہے۔
پاکستانی ٹیم قومی وقار کی حفاظت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر ترقی کے لیے پرعزم ہے اور نیشنز کپ سے اپنی مہم کا آغاز کرے گی۔
مردوں کے ہاکی ایشیا کپ کا بارہواں ایڈیشن 27 اگست سے 7 ستمبر 2025 تک بھارت کے شہر راجگیر میں منعقد ہونا طے پایا ہے، جس کی میزبانی ایشین ہاکی فیڈریشن (اے ایچ ایف) کرے گی۔
تاہم، غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق بھارتی حکام کی جانب سے ممکنہ طور پر پاکستان کو ٹورنامنٹ سے باہر رکھنے کی منصوبہ بندی پر ایونٹ کی شفافیت اور ساکھ پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اس پیش رفت نے نہ صرف کھیل کے منصفانہ انعقاد بلکہ پاکستان کی 2026 ہاکی ورلڈ کپ تک رسائی کے امکانات پر بھی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
حالیہ کشیدگی میں اضافہ پہلگام واقعے کے بعد ہوا ہے، جس کے بعد پاکستانی اسکواڈ کو ویزا نہ ملنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے ان کی شرکت غیر یقینی ہوگئی ہے۔
تاحال نہ تو ایشین ہاکی فیڈریشن اور نہ ہی بھارتی حکومت نے اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان جاری کیا ہے۔


Comments
Comments are closed.