وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے جنوبی اور وسطی ایشیا میں تجارت پر مبنی امن، اقتصادی تعاون اور اسٹریٹجک رابطوں کے منصوبوں کے ذریعے علاقائی انضمام کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، پروفیسر احسن اقبال نے ان خیالات کا اظہار ایک اہم تحقیقی رپورٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ یہ رپورٹ جنوبی اور وسطی ایشیا کو ملانے والے مشرقی اور مغربی اقتصادی راہداری کے امکانات سے متعلق ہے۔
تقریب میں قازقستان کے سفیر یرزھان کسٹافن سمیت متعدد سفارتکاروں، ماہرین اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔
یہ تحقیقی رپورٹ رینڈ کارپوریشن نے جُنید فیملی فاؤنڈیشن اور رینڈ سینٹر فار ایشیا پیسفک پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے اشتراک سے تیار کی ہے، جو عالمی اقتصادی منظرنامے میں تبدیلیوں کے تناظر میں بین العلاقائی معاشی مواقع کا جائزہ لیتا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان تہذیبی اور تجارتی رشتے گہرے اور تاریخی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ سیاسی سرحدیں مزید مضبوط ہو چکی ہیں، تاہم اقتصادی جغرافیہ کی منطق آج بھی برقرار ہے۔
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وسطی ایشیا کی زمین بند (لینڈ لاک) ریاستوں کو عالمی منڈیوں تک رسائی درکار ہے اور پاکستان گوادر اور کراچی میں واقع اپنی اسٹریٹجک بندرگاہوں کے ذریعے اس رابطے میں کلیدی کردار ادا کرنے کی منفرد پوزیشن میں ہے۔
انہوں نے پاکستان کے جغرافیائی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا، چین اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک پُل کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک تین ارب سے زائد کی آبادی والے خطے کے قلب میں واقع ہے؛ اس جغرافیہ کو اقتصادی مواقع میں تبدیل ہونا چاہیے۔
احسن اقبال نے حکومت کے ”5Es فریم ورک“ کا حوالہ دیا، خاص طور پر توانائی اور بنیادی ڈھانچے پر زور دیتے ہوئے اور بتایا کہ پاکستان چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے کو فعال کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون جیسے منصوبوں کے ذریعے علاقائی روابط کو وسعت دی جا رہی ہے۔
انہوں نے جن اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا ذکر کیا، ان میں درج ذیل شامل تھے:
-
گوادر بندرگاہ کی اپ گریڈیشن
-
ایم ایل-1 ریلوے لائن کی توسیع
-
کسٹمز اور سرحدی امور کی ڈیجیٹلائزیشن
-
خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیز) کا قیام و ترقی
-
قومی بجلی کی ترسیلی نظام (پاور ٹرانسمیشن نیٹ ورکس) کی توسیع
وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ یہ تمام منصوبے عوامی شعبہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت دی جانے والی خطیر سرمایہ کاری سے ممکن ہو رہے ہیں، جن میں بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے شعبے کو سب سے زیادہ فنڈنگ دی گئی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رابطہ کاری اور تعاون اُس ماحول میں پروان نہیں چَھڑ سکتے جہاں جبر، قبضے یا بالادستی کے عزائم غالب ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں بامقصد تجارت کے لیے پائیدار امن بنیادی شرط ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ وسطی ایشیا، افغانستان، ایران، پاکستان اور بھارت کو ملانے والی مشرقی مغربی اقتصادی راہداری کو محض خواہشات سے نکال کر حقیقت کی شکل دینی ہوگی؛ اس کے لیے قابلِ عمل پالیسیوں، سیاسی عزم اور شراکت داروں کے درمیان اعتماد کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے جغرافیائی اقتصادی خارجہ پالیسی کے عزم کو دہراتے ہوئے، وفاقی وزیر نے اپنے خطاب کو سمیٹے ہوئے کہا کہ پاکستان پُرامن بقائے باہمی، علاقائی انضمام اور مشترکہ خوشحالی کا حامی ہے۔ ہماری ترقیاتی بصیرت ’اُڑان پاکستان‘ رابطہ کاری، تجارت اور جامع ترقی کو قومی ایجنڈے کے مرکز میں رکھتی ہے۔
رپورٹ کے نتائج اور پاکستان کے اسٹریٹجک روڈ میپ سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ جنوبی اور وسطی ایشیا میں باہمی ربط اور معاشی سرگرمیوں کی جانب پیش رفت میں تیزی آ رہی ہے۔


Comments
Comments are closed.