حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری کے لیے ”ایکسپریشن آف انٹرسٹ“ (ای او آئی) جمع کرانے کی آخری تاریخ 3 جون سے بڑھا کر 19 جون 2025 تک کر دی ہے، جبکہ باقی تمام شرائط و ضوابط جوں کے توں رہیں گے۔
ایک اشتہار کے مطابق ”پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ کی نجکاری کے ذریعے حصص فروخت کے لیے ایکسپریشن آف انٹرسٹ اور اسٹیٹمنٹ آف کوالیفیکیشن جمع کرانے کی آخری تاریخ جمعرات، 19 جون 2025، شام 4 بجے تک بڑھا دی گئی ہے۔ باقی تمام شرائط و ضوابط پہلے جیسے ہی ہوں گے۔“
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے اور پاکستان کی قومی ایئرلائن ہے۔ حکومت پاکستان، پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کے ذریعے، پی آئی اے کے تقریباً 96 فیصد جاری شدہ حصص کی مالک ہے۔
پی آئی اے ایک مکمل سروس فراہم کرنے والی ایئرلائن ہے، جو اپنی معاون سروسز کے ساتھ فضائی سفر کی سہولیات فراہم کرتی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران، پی آئی اے نے تقریباً 40 لاکھ مسافروں کیلئے 30 منزلوں پر خدمات فراہم کیں، اور ہر ہفتے 268 پروازیں چلائیں۔
حکومت قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی اس ایئرلائن کے 51 سے 100 فیصد حصص فروخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ فنڈز اکٹھے کیے جا سکیں اور ان سرکاری اداروں کو اصلاحات کے تحت بہتر بنایا جا سکے جو قومی خزانے پر بوجھ بن چکے ہیں۔ یہ عمل 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت تجویز کردہ اصلاحاتی اقدامات کا حصہ ہے۔
حکومت گزشتہ سال پی آئی اے کی نجکاری کی پہلی کوشش میں ناکام رہی تھی کیونکہ صرف ایک ہی پیشکش موصول ہوئی تھی، جو 300 ملین ڈالر کی مطلوبہ قیمت سے کہیں کم تھی۔
بلو ورلڈ سٹی کنسورشیم نے نجکاری کمیشن کی کم از کم متوقع قیمت 85.03 ارب روپے کے مقابلے میں صرف 10 ارب روپے میں 60 فیصد حصص خریدنے کی پیشکش پر اصرار کیا، جس کے نتیجے میں قومی ایئرلائن کی نجکاری کی بولی کا عمل منسوخ کر دیا گیا تھا۔


Comments
Comments are closed.