BR100 Decreased By (-0.37%)
BR30 Decreased By (-0.44%)
KSE100 Increased By (0.03%)
KSE30 Decreased By (-0.03%)
BAFL 56.89 Increased By ▲ 0.16 (0.28%)
BIPL 26.91 Decreased By ▼ -0.07 (-0.26%)
BOP 33.76 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.05 Increased By ▲ 0.17 (1.72%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.20 (1.11%)
DGKC 204.48 Decreased By ▼ -0.45 (-0.22%)
FABL 99.80 Decreased By ▼ -0.30 (-0.3%)
FCCL 53.00 Decreased By ▼ -0.09 (-0.17%)
FFL 16.57 Increased By ▲ 0.05 (0.3%)
GGL 25.16 Increased By ▲ 0.32 (1.29%)
HBL 299.90 Increased By ▲ 0.08 (0.03%)
HUBC 217.74 Increased By ▲ 0.66 (0.3%)
HUMNL 10.72 Increased By ▲ 0.11 (1.04%)
KEL 7.20 Decreased By ▼ -0.02 (-0.28%)
LOTCHEM 29.75 Increased By ▲ 0.44 (1.5%)
MLCF 91.15 Decreased By ▼ -1.01 (-1.1%)
OGDC 317.20 Increased By ▲ 0.91 (0.29%)
PAEL 41.75 Decreased By ▼ -0.29 (-0.69%)
PIBTL 16.52 Increased By ▲ 0.11 (0.67%)
PIOC 297.50 Decreased By ▼ -2.74 (-0.91%)
PPL 217.78 Increased By ▲ 0.94 (0.43%)
PRL 51.97 Increased By ▲ 1.11 (2.18%)
SNGP 100.99 Decreased By ▼ -0.73 (-0.72%)
SSGC 26.64 Decreased By ▼ -0.34 (-1.26%)
TELE 8.57 Decreased By ▼ -0.08 (-0.92%)
TPLP 13.35 Decreased By ▼ -0.04 (-0.3%)
TRG 59.31 Increased By ▲ 0.05 (0.08%)
UNITY 10.14 Decreased By ▼ -0.16 (-1.55%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

کم ہائیڈل پیداوار، نیپرا کا ری بیسنگ ٹیرف پر اثرات کا انتباہ

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کہا ہے کہ ہائیڈل بجلی کی کم پیداوار کی وجہ سے جنریشن مکس میں تبدیلی...
شائع اپ ڈیٹ

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بتایا کہ ہائیڈل بجلی کی کم پیداوار کی وجہ سے جنریشن مکس میں تبدیلی مالی سال 2025-26 کے لیے مجوزہ ریبیسنگ ٹیرف پر اثر انداز ہوگی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں بیان دیتے ہوئے جس کی صدارت سینیٹر محسن عزیز نے کی، نیپرا کے چیئرمین وسیم مختار نے کہا کہ ملک میں بارشوں میں نمایاں کمی کے باعث آئندہ مالی سال کے لیے بجلی کی متوقع پیداواری منصوبہ بندی (جنریشن مکس) متاثر ہوگی جس کا مطلب ہے کہ آئندہ سال جس ریلیف کی توقع کی جا رہی تھی، وہ دستیاب نہیں ہوگی۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اپریل 2025 سے صارفین کو فی یونٹ 7.41 روپے کا موجودہ ریلیف دستیاب ہے جس میں معاہدوں کی نظرثانی یا ختم کرنے کا اثر تقریباً 1.81 روپے فی یونٹ، کوٹہ ٹرانزیکشن ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) 2.37 روپے فی یونٹ، فیول کلچر ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) 1.12 روپے فی یونٹ اور پٹرولیم لیوی میں اضافہ کے باعث 2.12 روپے فی یونٹ کا اثر شامل ہے۔ تاہم کیو ٹی اے اور ایف ٹی اے کے تحت ریلیف ملک کی معاشی صورتحال اور بین الاقوامی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں پر منحصر ہے۔

وزیر توانائی اویس لغاری نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ انہوں نے صوبوں کے واجبات کی کٹوتی کے حوالے سے وزیر خزانہ سے اہم ملاقات کی ہے۔ اس وقت کل 161.472 ارب روپے کی رقم صوبوں کے واجب الادا ہے، تاہم پنجاب کے علاوہ کوئی صوبہ مصالحت کے لیے رضامند نہیں ہے۔ اس میں پنجاب کا حصہ 41.832 ارب، سندھ کا 67.960 ارب، بلوچستان کا 41.600 ارب اور خیبر پختونخوا کا 10.080 ارب روپے شامل ہیں۔

وفاقی وزیر نے پی پی ایم سی اور سی پی پی اے-جی کے سینئر حکام کی غیرحاضری پر شدید برہمی کا اظہار کیا، کیونکہ کم درجے کے اہلکار کمیٹی کے سخت سوالات کا تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ اپٹما کے تعاون سے ایک جائزہ کیا گیا ہے جس سے ثابت ہوا ہے کہ اگر ٹائم آف یوز (ٹی او یو) میٹرز کا نظام ختم کردیا گیا تو صنعت پر اضافی بوجھ 35 ارب روپے سے تجاوز کر جائے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.