حکومت کا بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف بھر پور کارروائی کا عزم، خضدار حملے پر فیصلہ کن جواب کا اعلان
سیکرٹری داخلہ کیپٹن (رِیٹائرڈ) خرّم محمد آغا نے جمعہ کو خضدار میں حالیہ ”فتنہ الہندوستان“ کے دہشت گرد حملے کا ”فیصلہ کن“ جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے متبنہ کیا ہے کہ حملہ آور اپنے مقاصد میں ناکام رہیں گے۔
پاک فوج کے ترجمان ادارے یعنی آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شرف چودھری کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ نے اس حملے کی سخت مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے بھرپور حکومتی حمایت کا اعادہ کیا۔
خرم آغا نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حملے میں ”فتنہ الہندوستان“ کا کردار ہے اور اسے بھارت کی خطے میں تخریبی حکمت عملی کا تسلسل قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ خضدار میں معصوم بچوں پر حملہ صرف دہشت گردی نہیں بلکہ پاکستان کی روایات اور تعلیمی اقدار پر براہِ راست حملہ تھا۔
اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت خطے کو غیر مستحکم کرنے کا مرکز بن چکا ہے اور اس کا تعلق بلوچستان کے خضدار میں حملے سے بھی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شرف چودھری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی پاکستان کے قیام سے ہی جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2009 میں پاکستانی حکومت نے بھارت کے اس وقت کے وزیر اعظم کو ناقابل تردید شواہد پر مبنی دستاویزات دی تھیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے بقول 2010 میں عوام کے سامنے لائی گئی دستاویزات تاریخ کا حصہ ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 2016 میں بلوچستان میں بھارت کی حمایت یافتہ دہشت گردی کا ایک اور بدصورت پہلو سامنے آیا جس میں کل بھوشن یادو، جو بھارتی بحریہ کا ایک حاضر ڈیوٹی افسر ہے، ملوث تھا۔
پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ خضدار حملہ صرف ایک بس پر حملہ نہیں تھا، بلکہ یہ ہماری اقدار، ہماری تعلیم اور ہمارے معاشرے کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ وزارتِ داخلہ صوبائی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر اس ظالمانہ حملے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ حملہ بھارت کے ذریعے چلائی جانے والی ایک وسیع تر پرتشدد حکمت عملی کا تسلسل ہے، جو ”فتنہ الہندوستان“ کے تحت بھارت کی خفیہ ایجنسی رسرچ اینڈ اینالیسز ونگ (را) کی نگرانی میں عمل میں لایا جا رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آپریشن سندور میں ناکامی کے بعد بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کو بلوچستان اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے ہولناک حملے تیز کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور اس کے لوگ، خاص طور پر بلوچستان کے لوگ، اس سازش کو مسترد کرتے ہیں اور ریاست کے پاس ان نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور مجرموں اور ان کے سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی صلاحیت موجود ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے متنبہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایسے اقدامات کے نتائج بھی ہوں گے۔

Comments
Comments are closed.