قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے جمعرات کے روز انکم ٹیکس (دوسری ترمیم) بل 2025 پر غور موخر کر دیا، کیونکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین اجلاس میں شریک نہ ہو سکے، جن کی موجودگی کو قانون پر مشاورت کے لیے ضروری قرار دیا گیا تھا۔
اجلاس کے آغاز میں ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو پالیسی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ چیئرمین ایف بی آر وزیراعظم آفس میں آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ مصروف ہیں، اس لیے اجلاس میں شریک نہیں ہو سکتے۔ تاہم کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا، “میں ابھی آئی ایم ایف کے ظہرانے سے آ رہا ہوں، وہاں چیئرمین ایف بی آر اور وزیر خزانہ دونوں موجود نہیں تھے۔ ہمیں بہانے نہ دیں، ہم ریونیو ڈویژن کے کسی معاملے پر غور نہیں کریں گے۔
نوید قمر نے ایف بی آر کو ہدایت دی کہ وہ برآمدکنندگان اور مقامی صنعتکاروں کے لیے ٹیکس ریفنڈ کا نظام مؤثر اور خودکار بنائے تاکہ رقوم کی بروقت واپسی ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے ریونیو ڈویژن میں دوہری ٹیکسیشن اور پالیسی تضادات پر بھی تشویش ظاہر کی۔
اجلاس میں پارلیمانی بجٹ آفس بل 2025 پر بھی غور کیا گیا، جسے رانا ارادت شریف خان، رکن قومی اسمبلی، نے پیش کیا۔ بل کا مقصد پارلیمنٹ کی مالیاتی نگرانی کی صلاحیت کو مضبوط کرنے کے لیے ایک خودمختار اور ماہر بجٹ آفس کا قیام ہے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر بل کی حمایت کی اور اس کے مختلف پہلوؤں کا مزید جائزہ لینے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس کے دوران کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر نے آئندہ بجٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے 2024 کے فنانس ایکٹ میں برآمدکنندگان کو فائنل ٹیکس ریجیم (ایف ٹی آر) سے نارمل ٹیکس ریجیم (این ٹی آر) میں منتقل کرنے کی پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے مقامی سپلائیز پر زیرو ریٹنگ بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے اور پیداواری لاگت میں کمی لائی جا سکے۔
کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے کراچی چیمبر کے تحفظات کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ریونیو ڈویژن میں پالیسی تضادات اور بدعنوانی کے مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔ انہوں نے ایف بی آر پر زور دیا کہ وہ شفاف اور سادہ نظام اپنائے اور ٹیکس دہندگان کے لیے دوستانہ ماحول فراہم کرے تاکہ کاروباری طبقے اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
انہوں نے ایف بی آر کو ہدایت دی کہ وہ جلد از جلد کراچی چیمبر کا دورہ کرے اور براہ راست اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرے۔
کمیٹی نے آئل ریفائننگ انڈسٹری کی طرف سے سیلز ٹیکس میں اصلاحات سے متعلق تجاویز پر غور آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا۔ اجلاس میں ایک سینئر ماہر اقتصادیات نے کمیٹی کو بجٹ سے متعلق تفصیلی تجزیہ بھی پیش کیا۔
کمیٹی نے اپنے گزشتہ دو اجلاسوں کی کارروائی کی توثیق متفقہ طور پر کر دی۔ اجلاس میں رکن قومی اسمبلی عمر ایوب خان (آن لائن)، رانا ارادت شریف خان، سید سمیع الحسن گیلانی، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، شرمیلا ہاشم، محمد جاوید حنیف خان، ارشد عبداللہ ووہرا، محمد علی سرفراز (آن لائن)، محمد مبین عارف، عثمان میلہ اور شاہدہ بیگم شریک ہوئیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.