جمعرات کے روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ان لینڈ ریونیو کے رکن، نجیب احمد نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو آگاہ کیا کہ آئندہ بجٹ 26-2025 میں ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کے تحت تیار شدہ مصنوعات کی برآمدات کے لیے درکار خام مال/ان پٹس کی درآمد پر سیلز ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ بجٹ تجویز ایف بی آر کے رکن برائے آئی آر پالیسی نے جمعرات کو کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ای ایف ایس کے تحت خام مال کی درآمد پر سیلز ٹیکس کی تجویز گزشتہ سال بجٹ کی تیاری کے وقت نظرانداز کی گئی تھی، جبکہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) تمام شعبوں کے لیے یکساں سیلز ٹیکس نرخوں اور خصوصی ٹیکس مراعات کے خاتمے پر زور دے رہا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال فنانس ایکٹ 2024 کے تحت ای ایف ایس کے مجاز برآمدکنندگان کو مقامی سپلائیز پر حاصل زیرو ریٹنگ سیلز ٹیکس کی سہولت واپس لے لی گئی تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں وزیراعظم کی کمیٹی نے بھی ای ایف ایس پر اپنی سفارشات پیش کی ہیں۔
ایف بی آر رکن کے مطابق برآمدکنندگان کی جانب سے فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) کی بحالی کی تجویز آئی ہے، لیکن آئی ایم ایف اس کی اجازت نہیں دے گا۔ آئی ایم ایف نے گزشتہ سال بھی برآمدکنندگان کو دیگر شعبوں کے مقابلے میں دی گئی خصوصی ٹیکس مراعات پر اعتراض کیا تھا، جس کے بعد برآمدکنندگان کو عام ٹیکس نظام کے تحت لایا گیا۔
اس پر ایم این اے نوید قمر نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ برآمدکنندگان کو نارمل ٹیکس رجیم میں لانا دہرا ٹیکس عائد کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ انہیں کم از کم ٹیکس کے ساتھ ساتھ عام ٹیکس بھی دینا پڑ رہا ہے، جو کہ غیر منصفانہ ہے۔
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد جاوید بلوانی نے کمیٹی کو بتایا کہ برآمدکنندگان اس وقت عام ٹیکس نظام کے تحت 29 فیصد سے 45 فیصد تک ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک فیصد ٹرن اوور پر مبنی ایف ٹی آر سے منتقلی نے نہ صرف ٹیکس کا بوجھ بڑھا دیا ہے بلکہ ٹیکس کمپلائنس کی مشکلات بھی بڑھا دی ہیں، جس سے کاروباری آسانی متاثر ہوئی ہے، شفافیت کم ہوئی ہے، اور برآمدی شعبے کی مسابقت کو دھچکا لگا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمدکنندگان بلند ٹیکس شرحوں اور مالی لاگت کے باعث مارکیٹ سے تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ ہمارے پاس کاروبار کے لیے کیش فلو ہی موجود نہیں۔ فاسٹر سسٹم کے تحت ریفنڈز مہینوں میں ملتے ہیں، جبکہ سرکاری طور پر 72 گھنٹوں میں ادائیگی کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ بجٹ میں ای ایف ایس کے تحت مقامی سپلائیز پر زیرو ریٹنگ ختم کرنے سے برآمدکنندگان کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ریجنل کمپیٹیٹو انرجی ٹیرف (آر سی ای ٹی) کی واپسی سے بجلی اور گیس کے نرخ بھی بڑھ گئے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.