BR100 Increased By (0.63%)
BR30 Increased By (0.84%)
KSE100 Increased By (0.41%)
KSE30 Increased By (0.45%)
BAFL 58.60 Increased By ▲ 0.16 (0.27%)
BIPL 25.50 Increased By ▲ 0.30 (1.19%)
BOP 34.31 Increased By ▲ 0.32 (0.94%)
CNERGY 8.15 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 195.11 Increased By ▲ 2.14 (1.11%)
FABL 89.92 Increased By ▲ 0.13 (0.14%)
FCCL 53.30 Increased By ▲ 0.47 (0.89%)
FFL 18.02 Increased By ▲ 0.07 (0.39%)
GGL 19.60 Increased By ▲ 0.63 (3.32%)
HBL 287.50 Increased By ▲ 2.00 (0.7%)
HUBC 215.10 Increased By ▲ 0.72 (0.34%)
HUMNL 10.90 Increased By ▲ 0.02 (0.18%)
KEL 8.14 Increased By ▲ 0.12 (1.5%)
LOTCHEM 27.50 Decreased By ▼ -0.39 (-1.4%)
MLCF 87.20 Increased By ▲ 0.69 (0.8%)
OGDC 322.98 Increased By ▲ 3.02 (0.94%)
PAEL 39.80 Increased By ▲ 0.38 (0.96%)
PIBTL 17.39 Increased By ▲ 0.72 (4.32%)
PIOC 268.99 Increased By ▲ 2.93 (1.1%)
PPL 229.25 Increased By ▲ 1.07 (0.47%)
PRL 34.75 Increased By ▲ 0.07 (0.2%)
SNGP 99.22 Increased By ▲ 0.04 (0.04%)
SSGC 26.97 Increased By ▲ 0.37 (1.39%)
TELE 8.57 Increased By ▲ 0.29 (3.5%)
TPLP 8.64 Increased By ▲ 0.42 (5.11%)
TRG 69.66 Decreased By ▼ -0.05 (-0.07%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی (جولائی تا مارچ) کے دوران پاکستان کے معاشی حجم میں 2.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس پیمائش پر شک کیا جاسکتا ہے کیونکہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے پچھلے دو سہ ماہیوں کے اعدادوشمارمیں ترمیم کی ہے: جولائی تا ستمبر 2024 کی شرح کو پہلے کے 1.34 فیصد کے مقابلے میں بڑھا کر 1.37 فیصد کر دیا گیا جب کہ اکتوبر تا دسمبر 2024 کی شرح کو پہلے کے 1.73 فیصد کے مقابلے میں کم کرکے 1.53 فیصد کردیا گیا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کیے گئے پہلے جائزے کے دستاویزات کے مطابق، اعدادوشمار میں موجود اہم خامیوں کو دور کرنے کی مقامی صلاحیت کو مضبوط کیا جارہا ہے اور قومی اکاؤنٹس کو بہتر بنانے کی مسلسل کوششیں جاری ہیں، جس کے تحت پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے دسمبر میں پہلی بار اخراجات کی بنیاد پر سہ ماہی تخمینے شائع کیے ہیں۔

آئی ایم ایف نے مزید کہا کہ اقتصادی و مالیاتی پالیسی کی ایک یادداشت (یعنی وقت کی پابندی والی شرط) کے تحت 3 اہم سروے (زرعی مردم شماری، لیبر فورس سروے اور ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے) کا ڈیٹا جمع کرنا تیزی سے جاری ہے اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس دسمبر 2025 کے آخر تک حتمی رپورٹس شائع کرے گا اور نتائج کو نیشنل سمری ڈیٹا پیج پورٹل پر بھی اپ لوڈ کرے گا، جو میکرو اکنامک اعدادوشمار کے اہم شعبوں میں حالیہ تبدیلیوں کا بہتر جائزہ لینے اور سماجی اخراجات کی کفایت شعاری کا تعین کرنے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کریں گے۔

نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) پر کام بھی جاری ہے جس میں جولائی 2025 سے ماہانہ ڈیٹا جمع کرنے کیلئے صوبائی شماریاتی اداروں کے ساتھ طریقہ کار پر اتفاق رائے بھی شامل ہے۔ مالی سال 2026 میں 3 اہم سروے بھی کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے: مینوفیکچرنگ انڈسٹریز کی مردم شماری، چھوٹے اور گھریلو مینوفیکچرنگ انڈسٹریز کا سروے اور فیملی بجٹ سروے، جس میں پہلی بار آن لائن پلیٹ فارمز پر ہونے والے اخراجات کو شامل کیا جائے گا۔

ان اعدادوشمار کی تیاری اور صلاحیت میں بتدریج بہتری، تاکہ یہ پہلے سے زیادہ درست اور معتبر بن سکیں، امید کی جاتی ہے کہ وزارتِ خزانہ انہیں بروقت اور مؤثر فیصلے کرنے کے لیے استعمال کرے گی، تاکہ مالی بحران کے سنگین دباؤ کے تحت آئی ایم ایف کی امداد طلب کرنے کی ناگزیریت سے بچا جاسکے۔

یہ حقیقت کہ ہم اس وقت چوبیسویں فنڈ بیل آؤٹ پیکیج پر ہیں، افسوسناک طور پر قابلِ اعتماد ڈیٹا کی کمی کی نشاندہی کرتی ہے جو بروقت فیصلے کرنے میں رکاوٹ ہے۔ یہ وہ خامی ہے جس پر کئی معاشی ماہرین الزام عائد کرتے ہیں کہ پچھلی حکومتیں جان بوجھ کر اعدادوشمار میں دخل اندازی کرتی رہی ہیں اور یہی پاکستان کے موجودہ قرضوں کے مسائل کی جڑ بھی ہے۔

آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کے مالیاتی اعدادوشمار کو مضبوط بنانے کا کام جاری ہے جس کے تحت ایک جی ایف ایس ٹیم قائم کی گئی ہے اور جی ایف ایس کی توسیع اور بہتری کے لیے کئی سالہ روڈمیپ پر اتفاق ہوا ہے جس میں جی ایف ایس ایم 2014 پر منتقلی اور سرکاری اداروں کے ڈیٹا کو شامل کرنا شامل ہے۔ یعنی پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کو مضبوط بنانے کے لیے وسیع کام ہورہا ہے، لیکن سب سے اہم یہ ہے کہ امید کی جاتی ہے کہ سیاسی دباؤ کے ذریعے اعدادوشمار میں مداخلت کرنے کا رواج ختم کردیا جائے گا۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ تیسری سہ ماہی کے دوران 2.4 فیصد کی شرح نمو پر شک کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ناقص کارکردگی دکھانے والی یوٹیلٹی کمپنیوں کی مکمل لاگت کی وصولی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے انتظامی اقدامات نے مجموعی طور پر ان پٹ لاگتوں میں اضافہ کیا ہے، جو سخت مالیاتی پالیسی (11 فیصد ڈسکاؤنٹ ریٹ، جو خطے کے اوسط سے زیادہ ہے) کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ سیکٹر کی منفی نمو کی وجہ بن رہے ہیں۔

آئی ایم ایف کی شرط کے تحت صنعتی مراعات (چاہے برآمدات سے متعلق ہوں یا عمومی نوعیت کی) واپس لینا اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کا کچھ اہم فصلوں کے لیے سپورٹ پرائس کا اعلان بند کرنا ممکنہ طور پر آئندہ مالی سال میں پیداوار کو کم کر دے گا۔ بڑے پیمانے پر ترقی کا واحد امکان پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام ہے، جو تاریخی طور پر جب بھی حکام بجٹ خسارے کے ہدف میں ناکام ہوتے ہیں، بے دریغ کم کر دیا جاتا ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے موجودہ سال کے لیے 2.6 فیصد کی نمو کی پیش گوئی جو پہلے کے اندازے 3.2 فیصد سے کم کی گئی ہے، آخری سہ ماہی میں بہت زیادہ پرامید نمو کے ہدف کا تقاضا کرتی ہے، کیونکہ پہلی سہ ماہی کا ہدف 1.37 فیصد، دوسری کا 1.53 فیصد، اور تیسری سہ ماہی میں 2.4 فیصد کی نمو تخمینہ لگائی گئی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر

Comments

Comments are closed.