سیکیورٹی فورسز نے ضلع خضدار میں اسکول بس پر ہونے والے حملے کے ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس افسوسناک واقعے میں تین بچوں سمیت پانچ افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے سانحے کے بعد کوئٹہ کے ایک روزہ دورے کے بعد جاری کردہ وزیراعظم آفس کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس وحشیانہ حملے میں ملوث تمام افراد کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے،انہیں منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔
اس سنگین جرم کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور معاونین کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، اور بھارت کا مکروہ چہرہ — جو خود دہشت گردی کا اصل مجرم ہے لیکن دنیا کے سامنے مظلوم بننے کی کوشش کرتا ہے — بے نقاب ہو چکا ہے۔
بیان میں واقعے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ یہ حملہ “بھارت کے ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے ایجنٹوں (فتنہ الہندستان) کے ذریعے کیا گیا۔ مزید کہا گیا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بزدلانہ دہشت گرد کارروائیاں انہی ایجنٹوں کے ذریعے منظم کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد جان بوجھ کر عام شہریوں کو نشانہ بنا کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ وزیراعظم کے ہمراہ وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی کوئٹہ گئے جہاں انہوں نے حملے کے متاثرین سے ملاقات کی۔
بیان کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور کوئٹہ کے کور کمانڈر نے واقعے پر بریفنگ دی جس کے نتیجے میں 3 معصوم بچوں اور 2 جوانوں نے شہادت پائی، جبکہ 53 افراد زخمی ہوئے جن میں 39 بچے شامل ہیں اور ان میں سے آٹھ کی حالت تشویشناک ہے۔
وزیراعظم نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اس ”شرمناک اور قابلِ مذمت اقدام“ کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
بیان میں کہا گیا کہ دہشت گرد گروپس صرف بھارت کے ریاستی پالیسی کے آلات کے طور پر استعمال نہیں ہو رہے بلکہ یہ بلوچ اور پشتون عوام کی عزت اور اقدار پر بھی ایک بدنما داغ ہیں، جنہوں نے طویل عرصے سے تشدد اور انتہا پسندی کو مسترد کیا ہے۔
بھارت کی ایسی اخلاقی طور پر ناقابل قبول حکمت عملیوں، خاص طور پر بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے پر انحصار، بین الاقوامی برادری کی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.