غیر ملکی سرمایہ کاری، مسائل برقرار
رواں مالی سال کے ابتدائی دس ماہ کے دوران پاکستان کو 1.784 ارب ڈالر کی خالص غیر ملکی سرمایہ کاری موصول ہوئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 3 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اعلیٰ سطح سفارتی کوششوں اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت پالیسی اصلاحات کے باوجود، غیر ملکی سرمایہ کاری بدستور تاریخی طور پر کم سطح پر برقرار ہے۔

اپریل 2025 کے اعداد و شمار نے اس تشویش کو مزید تقویت دی جب خالص غیر ملکی سرمایہ کاری میں سالانہ بنیاد پر 91 فیصد کی غیر معمولی کمی واقع ہوئی اور یہ صرف 25.75 ملین ڈالر تک محدود رہی، جو حالیہ برسوں کے کم ترین ماہانہ اعداد و شمار میں سے ایک ہے۔
اپریل 2025 میں چین 27 ملین ڈالر کی خالص سرمایہ کاری کے ساتھ سرفہرست رہاجو پاکستان کے سب سے بڑے سرمایہ کار کے طور پر اس کے مستقل کردار کی تصدیق کرتا ہے۔

تاہم سی پیک کے تحت دوطرفہ اقتصادی تعاون کے بلند و بانگ دعوؤں کے تناظر میں یہ سرمایہ کاری بھی انتہائی معمولی محسوس ہوتی ہے۔ دیگر بڑی عالمی معیشتوں کی جانب سے بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کے میدان میں خاطر خواہ دلچسپی یا پیش رفت دیکھنے میں نہیں آ رہی۔
پاکستان میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی )کا کردار نمایاں رہا ہے۔ حالیہ سرکاری اعلانات کے مطابق ایس آئی ایف سی کے قیام کے بعد سے ملک میں 2.3 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل کی جس میں خاص طور پر کان کنی، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور توانائی جیسے اہم شعبوں کو ترجیح دی گئی ۔

مالی سال 24میں 2.3 ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری سالانہ 50 فیصد سے زائد اضافہ تھی لیکن اس کے باوجود یہ مجموعہ اس سطح سے کہیں کم ہے جو ملک نے 2000 کی دہائی میں حاصل کی تھی۔ علاوہ ازیں، اکثر ایسے خبریں ابتدائی وعدے اور مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز)کو بھی شامل کرتی ہیں جو حتمی سرمایہ کاری میں تبدیل نہیں ہوتیں۔
پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات ابھی بھی چیلنجز سے بھرے ہیں۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد وسیع ساختی مسائل کی وجہ سے کمزور ہے جن میں معاشی عدم استحکام، معاہدوں کی ناقص پاسداری، غیر مستقل ٹیکس نظام اور حد سے زیادہ ضوابط شامل ہیں۔

عالمی سرمایہ کار دن بہ دن زیادہ محتاط ہو رہے ہیں اور پاکستان کا موجودہ خطرہ اور منافع کا توازن ایسے مقابلہ جاتی خطے میں نمایاں کشش پیش کرنے سے قاصر ہے۔
ہمسایہ ممالک جیسے بھارت، ویت نام، اور بنگلہ دیش مضبوط صنعتی ڈھانچے، پائیدار اور قابلِ اعتبار پالیسیاں اور کاروبار میں سہولتوں کی وجہ سے پاکستان سے کہیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
ملک کو ایسی گہری اصلاحات کی ضرورت ہے جو ریگولیٹری وضاحت، عدالتی کارکردگی، سرمایہ کاروں کے تحفظ، اور مخصوص شعبوں میں سہولت کاری پر مرکوز ہوں۔ اگر یہ بنیاد مضبوط نہ بنی تو اہم منصوبے صرف وقتی دلچسپی پیدا کریں گے اور پاکستان کو فوری ضرورت والے طویل مدتی سرمایہ کاری کے امکانات کو بڑھانے میں ناکام رہیں گے۔


Comments
Comments are closed.