قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے ریجنل ریفرنس لیبارٹری برائے انسدادِ پولیو نے خیبرپختونخوا میں وائلڈ پولیو وائرس کے دو نئے کیسز کی تصدیق کی ہے جس کے بعد ملک بھر میں رواں سال رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔
یہ کیسز ضلع لکی مروت اور ضلع بنوں میں سامنے آئے ہیں، جن پر ماہرین نے پولیو کے خاتمے سے متعلق جاری کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جو انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں۔
جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق 2025 میں اب تک خیبرپختونخوا میں 5، سندھ میں 4 اور پنجاب میں ایک کیس سامنے آ چکا ہے۔
حکومت کی جانب سے قومی انسداد پولیو مہمات کے باوجود جنوبی خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں اب بھی انتظامی رکاوٹوں اور رسائی کے مسائل کا سامنا ہے۔
محدود نقل و حرکت، مقامی مزاحمت اور خواتین ویکسینیٹرز کی کمی جیسے عوامل ان علاقوں میں ہر بچے تک رسائی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
یونین کونسل بخمل احمد زئی (ضلع لکی مروت) میں فروری اور اپریل 2025 کی پولیو مہمات کے دوران بچے پولیو کے قطرے پینے سے محروم رہے۔
اسی طرح تحصیل وزیر کی یونین کونسل سینٹنگہ (ضلع بنوں) میں اکتوبر 2023 کے بعد سے کوئی جامع پولیو مہم نہیں چلائی گئی۔


Comments
Comments are closed.