الحاق اور کمائی کے جھوٹے دعوے، مسابقتی کمیشن پاکستان نے برطانوی لائسیئم پر 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا
مسابقتی کمیشن پاکستان (سی سی پی) نے برطانوی لائسیئم (پرائیویٹ) لمیٹڈ پر ایک گمراہ کن اشتہار شائع کرنے پر50 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔
مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے کہا ہے کہ برٹش لائسیئم کی جانب سے شائع کردہ اشتہار میں جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ اس کے اساتذہ ماہانہ 2 لاکھ 50 ہزار روپے تک کما سکتے ہیں جبکہ ایک پروجیکٹ کی مالیت 3.7 ارب روپے ظاہر کی گئی جو کہ حقیقت کے برعکس ہے۔
کمیشن کے بیان کے مطابق اشتہار میں ”کیمبرج گلوبل یو کے“ سے الحاق کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے جو کہ ایک غیر فعال ادارہ ہے۔
مزید یہ کہ اشتہار میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معروف ماہرینِ تعلیم اور ٹیکنالوجی ماہرین کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل ہیں۔
مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے بتایا کہ اسے ان دعوؤں کے بارے میں شکایات موصول ہوئیں جس کے بعد انکوائری کا آغاز کیا گیا۔
کمیشن نے کہا ہے کہ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ تمام دعوے جھوٹے، غیر مصدقہ اور گمراہ کن تھے۔
مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ برٹش لائسیئم نے مسابقتی ایکٹ 2010 کے سیکشن 10 کی خلاف ورزی کی ہے کیونکہ ادارہ گمراہ کن مارکیٹنگ میں ملوث پایا گیا۔
اس خلاف ورزی پر کمیشن نے سیکشن 10(2)(b) کے تحت 30 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا، جو کہ صارفین کو گمراہ کرنے پر لگایا گیا، جبکہ سیکشن 10(2)(a) کے تحت مزید 20 لاکھ روپے جرمانہ اس بنیاد پر عائد کیا گیا کہ ان دعوؤں سے دیگر کاروباروں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔
بیان کے مطابق تحقیقات کے دوران کمپنی نے غیر مناسب اور غیر دستخط شدہ مالیاتی بیانات بھی جمع کرائے۔
مزید یہ کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے بھی اس کمپنی کو اُن اداروں میں شامل کیا ہے جن پر غیر مجاز سرگرمیوں کا شبہ ہے۔
سی سی پی کے مطابق ان عوامل کو سنگین خلاف ورزیاں تصور کیا گیا، اور انہیں جرمانے کے تعین میں اضافہ کرنے والے عناصر کے طور پر مدنظر رکھا گیا۔
تاہم کمیشن نے بتایا کہ برٹش لائسیئم نے انکوائری کے آغاز کے بعد متنازع اشتہار ہٹا دیا، جسے جرمانے میں کمی کے جواز کے طور پر قبول کیا گیا۔
کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ منصفانہ مسابقت کو فروغ دینے اور صارفین کو گمراہ کن مارکیٹنگ سے بچانے کے لیے اپنے اقدامات جاری رکھے گا۔


Comments
Comments are closed.