پاکستان کے سفیر برائے امریکہ رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ اسپیس ایکس کا اسٹارلنک جو کم زمین مدار میں گردش کرنے والے سیٹلائٹس کے ذریعے دور دراز علاقوں تک انٹرنیٹ پہنچاتا ہے، پاکستان کے ڈیجیٹل خلا کو پر کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ باتیں رضوان سعید شیخ نے لاس اینجلس میں واقع معروف امریکی خلائی اور ٹیکنالوجی کمپنی اسپیس ایکس کے ہیڈکوارٹرز کے دوران کہیں، اس موقع پر ان کے ساتھ پاکستان کے قونصل جنرل لاس اینجلس، عاصم علی خان اور دیگر قونصل خانے کے اہلکار بھی موجود تھے۔
دورے کے دوران پاکستانی سفیر کو پاکستان اور اسپیس ایکس کے درمیان ممکنہ تعاون پر جاری مذاکرات خاص طور پر اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ پروجیکٹ اور دیگر سیٹلائٹ ٹیکنالوجیز کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
پاکستانی وفد کا اسپیس ایکس ہیڈکوارٹرز میں اسٹارلنک گلوبل بزنس آپریشنز کے نائب صدر اور گلوبل بزنس ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر نے پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ اسٹارلنک کے لو-ارتھ اوربٹ سیٹلائٹ انفرااسٹرکچر اور اسپیس ایکس کی تجارتی صلاحیتیں پاکستان کے ڈیجیٹل انقلاب کی حمایت کیسے کر سکتی ہیں۔
گفتگو کا مرکزی موضوع پاکستان کے کم ترقی یافتہ اور دور دراز علاقوں میں براڈبینڈ تک رسائی کو بڑھانا اور قومی رابطہ کاری کو مضبوط بنانا تھا۔
ادھر سفیر نے پاکستان کے اس عزم کو دوبارہ واضح کیا کہ ملک عالمی شراکت داریوں کے ذریعے جدت پر مبنی ترقی کو فروغ دے گا۔
پاکستان کے قونصل خانے لاس اینجلس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے تعمیری گفتگو کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جاری رابطے خلائی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور کاروباری جدت کے شعبوں میں موثر تعاون کا باعث بنیں گے۔
رضوان سعید شیخ کا اسپیس ایکس کے ساتھ یہ رابطہ کیلیفورنیا میں ان کی وسیع سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان اور امریکہ کے نجی شعبے کے درمیان تکنیکی اور معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
اگرچہ بارہا ملاقاتیں ہو چکی ہیں، پاکستان، جو دنیا کی بڑی فری لانسنگ کمیونٹیوں میں سے ایک ہے، اب بھی اسٹار لنک کے عملی آغاز کا انتظار کررہا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے اعلان کیا تھا کہ اسٹار لنک کے لائسنسنگ کا عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا اور یہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کنندہ نومبر 2025 تک پاکستان میں اپنی خدمات شروع کر دے گا۔


Comments
Comments are closed.