تیسری سہ ماہی ، جی ڈی پی کی شرح نمو 2.4 فیصد ریکارڈ
- زرعی، صنعتی اور خدمات کے شعبوں کی شرح نمو بالترتیب 1.18 فیصد، منفی 1.14 فیصد اور 3.99 فیصد رہی
رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی (جنوری تا مارچ) کے دوران پاکستان کی معیشت نے 2.4 فیصد کی شرح نمو ریکارڈ کی۔
مالی سال 2024-25 کی تیسری سہ ماہی (جنوری تا مارچ) کے دوران صنعتی شعبے میں 1.14 فیصد کمی کے باوجود ملکی معیشت نے2.4 فیصد جی ڈی پی نمو حاصل کی۔ یہ اعداد و شمار پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) نے قومی اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی ) کے 113ویں اجلاس کے بعد جاری کیے۔
واضح رہے کہ صنعتی شعبے میں یہ کمی بنیادی طور پر کان کنی، کھدائی اور بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار میں منفی نمو کی وجہ سے ہوئی۔
پہلی سہ ماہی میں زرعی شعبے کی شرح نمو کو 0.74 فیصد سے بڑھا کر 0.84 فیصد کردیا گیا ہے۔ اس اضافے کی وجہ دیگر فصلوں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری ہے، جن کی شرح نمو 0.43 فیصد سے بڑھ کر 5.53 فیصد ہو گئی، جبکہ جنگلات کے شعبے میں بھی بہتری آئی ہے اور اس کی شرح نمو منفی 2.07 فیصد سے بڑھ کر 0.79 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
اگرچہ دوسری سہ ماہی میں دیگر فصلوں کی شرح نمو 0.73 فیصد سے بڑھ کر 5.52 فیصد، جنگلات کی منفی 0.64 فیصد سے 3.18 فیصد اور ماہی پروری کی 0.79 فیصد سے بڑھ کر 1.63 فیصد تک پہنچ گئی، تاہم اہم فصلوں کی کارکردگی میں نمایاں گراوٹ آئی، جن کی شرح نمو منفی 7.65 فیصد سے کم ہو کر منی 12.09 فیصد ہوگئی، اسی وجہ سے زرعی شعبے کی مجموعی شرح نمو کو کم کرکے 1.10 فیصد سے 0.79 فیصد کر دیا گیا ۔
اگرچہ کان کنی اور کھدائی کے شعبے کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے اور اس کی شرح نمو منفی 8.06 فیصد سے کم ہو کر منفی 6.25 فیصد ہو گئی، تاہم صنعتوں کی مجموعی کارکردگی میں تنزلی دیکھی گئی ہے، اور پہلی سہ ماہی کے تازہ ترین تخمینوں کے مطابق صنعتی شعبے کی شرح نمو کومنفی 0.66 فیصد سے کم کر کے منفی 0.91 فیصد کر دیا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں نمایاں گراوٹ ہے، جہاں مثبت شرح نمو 1.37 فیصد سے منفی 2.30 فیصد تک گر گئی ہے۔
دوسری سہ ماہی میں صنعتی سرگرمیوں کی شرح نمو کو منفی 0.18 فیصد سے کم کر کے منفی 0.99 فیصد کردیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کا شعبہ ہے جس کی شرح نمو پہلے کے تخمینے 7.71 فیصد کے مقابلے میں گھٹ کر منفی 3.40 فیصد ہوگئی ہے۔
پہلی اور دوسری سہ ماہی میں خدمات کے شعبے کی نظرثانی شدہ شرح نمو میں معمولی بہتری دیکھی گئی ہے، جو بالترتیب 2.21 فیصد اور 2.57 فیصد سے بڑھ کر 2.28 فیصد اور 2.59 فیصد ہو گئی ہے۔ اس بہتری کی وجہ تھوک و خوردہ تجارت، نقل و حمل اور ذخیرہ اندوزی، معلومات و مواصلات، اور عوامی انتظامیہ و سماجی تحفظ کے شعبوں میں بہتری ہے۔
مالی سال 2024-25 کی تیسری سہ ماہی میں معیشت نے مستحکم 2.40 فیصد نمو ظاہر کی ہے۔ زرعی، صنعتی اور خدمات کے شعبوں کی شرح نمو بالترتیب 1.18 فیصد، منفی 1.14 فیصد اور 3.99 فیصد رہی۔ زرعی شعبے میں اگرچہ اہم فصلوں کی پیداوار میں 11.14 فیصد کمی ہوئی، تاہم دیگر فصلوں کی پیداوار 4.84 فیصد بڑھی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ پیاز کی پیداوار میں 11 فیصد اور آم کی پیداوار میں 26 فیصد کی دہرا ہندسہ شرح نمو ہے۔
مالی سال 2024-25 کی تیسری سہ ماہی میں لائیواسٹاک (4.42 فیصد)، جنگلات (4.25 فیصد) اور ماہی گیری (0.50 فیصد) نے مثبت شرح نمو کا مظاہرہ کیا ہے۔ جبکہ صنعتی شعبے میں منفی نمو کی شرح (-1.14 فیصد) رہی، جس کی بنیادی وجوہات کان کنی اور کھدائی (-3.96 فیصد)، بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ (-0.89 فیصد)، بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی (-7.72 فیصد) اور تعمیرات (-9.12 فیصد) میں کمی ہے۔
مالی سال 2024-25 کی تیسری سہ ماہی میں خدمات کے شعبے کی مجموعی شرح نمو 3.99 فیصد رہی، جس میں تمام ذیلی شعبوں نے مثبت کردار ادا کیا۔ ان میں تھوک و خوردہ تجارت (+1.57 فیصد)، نقل و حمل اور ذخیرہ اندوزی (+0.67 فیصد)، معلومات و مواصلات (+18.44 فیصد)، مالیات اور بیمہ کی سرگرمیاں (+10.65 فیصد)، عوامی انتظامیہ اور سماجی تحفظ (+13.73 فیصد)، تعلیم (+4.63 فیصد)، صحت اور سماجی کام (+5.06 فیصد) اور دیگر نجی خدمات (+2.93 فیصد) شامل ہیں۔
کمیٹی نے مالی سال 2022-23 کے دوران سالانہ جی ڈی پی کی مجموعی حتمی شرح نمو کو منفی0.21 فیصد کی منظوری دی، جو کہ 111ویں اجلاس میں منفی 0.22 فیصد اندازہ کی گئی تھی۔
زرعی، صنعتی اور خدمات کے شعبوں کی حتمی شرح نمو مالی سال 2022-23 میں بالترتیب 2.24 فیصد، -3.88 فیصد اور 0.04 فیصد رہی۔
مزید برآں، مالی سال 2023-24 کے لیے نظرثانی شدہ شرح نمو 2.51 فیصد ہے، جو پچھلے اجلاس میں 2.50 فیصد اندازہ کی گئی تھی۔
نظرثانی شدہ تخمینوں میں زرعی شعبے کی شرح نمو 6.18 فیصد سے بڑھ کر 6.40 فیصد ہو گئی ہے، صنعتی شعبے میں بہتری آئی ہے اور یہ منفی 1.65 فیصد سے بہتر ہو کر منفی 1.37 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ خدمات کے شعبے میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے جو 2.35 فیصد سے کم ہو کر 2.19 فیصد رہ گئی ہے۔
کمیٹی نے مالی سال 2024-25 کے دوران عبوری جی ڈی پی کی شرح نمو کو 2.68 فیصد کی منظوری دی ہے۔ زرعی، صنعتی اور خدمات کے شعبوں کی عبوری شرح نمو بالترتیب 0.56 فیصد، 4.77 فیصد اور 2.91 فیصد رہی ہے۔
زرعی شعبے میں اہم فصلوں کی پیداوار میں 13.49 فیصد کمی آئی ہے، جس کی وجہ گندم کی پیداوار میں 8.91 فیصد کمی ہے، جو 31.81 ملین ٹن سے کم ہو کر 28.98 ملین ٹن رہ گئی ہے۔ اسی طرح مکئی کی پیداوار 15.4 فیصد گھٹ کر 9.74 ملین ٹن سے 8.24 ملین ٹن، چاول کی پیداوار 1.38 فیصد کمی کے ساتھ 9.86 ملین ٹن سے 9.72 ملین ٹن، گنا کی پیداوار 3.88 فیصد کم ہو کر 87.64 ملین ٹن سے 84.24 ملین ٹن اور کپاس کی پیداوار 30.7 فیصد کمی کے ساتھ 10.22 ملین بیل سے گھٹ کر 7.08 ملین بیل تک پہنچ گئی ہے۔
چنے کی پیداوار میں 16.6 فیصد کمی کے باوجود، دیگر فصلوں نے عبوری طور پر 4.78 فیصد نمو حاصل کی ہے، جس کی بڑی وجہ آلو کی پیداوار میں 11.5 فیصد اضافہ (8.43 سے 9.40 ملین ٹن)، پیاز میں 15.9 فیصد اضافہ (2.30 سے 2.67 ملین ٹن)، آم میں 26.7 فیصد اضافہ (2.09 سے 2.65 ملین ٹن)، اور تل کی پیداوار میں 44.7 فیصد اضافہ (0.30 سے 0.44 ملین ٹن) ہے۔
اگرچہ کاٹن جننگ اور متفرق اجزاء میں 19.03 فیصد کمی آئی ہے، تاہم لائیواسٹاک، جنگلات اور ماہی گیری نے عبوری طور پر بالترتیب 4.72 فیصد، 3.03 فیصد اور 1.42 فیصد کی شرح نمو دکھائی ہے۔ صنعتی شعبے نے مالی سال 2024-25 میں عبوری طور پر 4.77 فیصد کی نمو ظاہر کی ہے۔
کوئلے کی پیداوار میں 2.84 فیصد اضافے کے باوجود، کان کنی اور کھدائی کے شعبے میں 3.38 فیصد کمی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ قدرتی گیس کی پیداوار میں 7.05 فیصد، خام تیل میں 14.72 فیصد اور دیگر معدنیات کی پیداوار میں کمی ہے۔
کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ جولائی تا مارچ کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ نے 1.53 فیصد منفی شرح نمو دیکھی ہے، جس میں مختلف گروپوں کی پیداوار میں مخلوط رجحان رہا۔ مثلاً خوراک میں 0.49 فیصد کمی، مشروبات میں 0.88 فیصد اضافہ، تمباکو میں 13.12 فیصد اضافہ، ٹیکسٹائل میں 2.15 فیصد اضافہ، ملبوسات میں 7.62 فیصد اضافہ، کوک اور پٹرولیم میں 4.48 فیصد اضافہ، کیمیکلز میں 5.51 فیصد کمی، غیر دھاتی معدنی مصنوعات میں 10.45 فیصد کمی، آئرن اور اسٹیل مصنوعات میں 10.94 فیصد کمی، تیار شدہ دھات میں 17.16 فیصد کمی، برقی آلات میں 15.89 فیصد کمی اور گاڑیوں کی صنعت میں 40 فیصد اضافہ شامل ہے۔
بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے نے مالی سال 2023-24 کی کمزور بنیاد (-19.86 فیصد) کے اثر کے باعث اور واپڈا اور دیگر کمپنیوں کی پیداوار میں اضافے کی وجہ سے 28.88 فیصد مثبت شرح نمو دکھائی ہے۔ تعمیراتی شعبے میں بھی نجی سیکٹر اور عام حکومت کی تعمیراتی اخراجات میں اضافے کے سبب 6.61 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
خدمات کے شعبے نے مالی سال 2024-25 میں 2.91 فیصد نمو ظاہر کی ہے جس میں تمام ذیلی شعبوں نے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ تاہم، تھوک و خوردہ تجارت میں زراعت اور مینوفیکچرنگ کی سست رفتار پیداوار کی وجہ سے معمولی 0.14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
نقل و حمل اور ذخیرہ اندوزی کے شعبے میں پانی، ہوا اور سڑک کے ذریعے نقل و حمل کی پیداوار میں اضافے کے باعث 2.20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ معلومات اور مواصلات کے شعبے نے کمپیوٹر پروگرامنگ اور مشاورتی سرگرمیوں کی پیداوار میں 24 فیصد اضافے کی بدولت 6.48 فیصد نمو ظاہر کی ہے۔
مہنگائی کی کم رفتار اور کمزور بنیاد کے اثرات کی وجہ سے مالیات اور بیمہ کے شعبے میں 3.22 فیصد اور عوامی انتظامیہ و سماجی تحفظ کے شعبے میں 9.92 فیصد مثبت شرح نمو ہوئی ہے۔
مزید برآں، تعلیم اور انسانی صحت و سماجی خدمات کے شعبوں نے بالترتیب 4.43 فیصد اور 3.71 فیصد مثبت شرح نمو دکھائی ہے۔
دیگر نجی خدمات کی شرح نمو مختلف ذرائع سے موصولہ اعداد و شمار کی بنیاد پر 3.64 فیصد تخمینہ لگایا گیا ہے۔
مالی سال 2024-25 کے قومی اکاؤنٹس کے تازہ ترین اعداد و شمار کی بنیاد پر، معیشت کا کل حجم 114.7 کھرب روپے یعنی 410.96 بلین امریکی ڈالر ہے جو کہ پچھلے سال کے 105.1 کھرب روپے یعنی 371.66 بلین امریکی ڈالر کے مقابلے میں ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.