پاکستان کے تمباکو برآمد کنندگان نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ ٹیکس ڈھانچہ خاص طور پر چھوٹے برآمد کنندگان کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک زیادہ مسابقتی ٹیکسیشن ماڈل اپنائے۔
یہ تحفظات تمباکو کے نمایاں برآمد کنندگان کے وفد نے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پیر کے روز ملاقات میں پیش کیے، جیسا کہ منگل کو وزارت تجارت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا۔
ملاقات کے دوران برآمد کنندگان نے نشاندہی کی کہ موجودہ ٹیکس ڈھانچے میں فی کلوگرام فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) 390 روپے، صوبائی ایکسائز ڈیوٹی (پی ای ڈی) 50 روپے، فیڈرل ٹوبیکو سیس 15.15 روپے، اور صوبائی ڈیولپمنٹ سیس 25 روپے شامل ہیں، جو مجموعی طور پر 480.15 روپے فی کلو بنتے ہیں۔
برآمد کنندگان کا کہنا تھا کہ یہ لاگت خاص طور پر چھوٹے برآمد کنندگان کے لیے ایک رکاوٹ ہے، اور انہوں نے تجویز دی کہ ایک مسابقتی ٹیکس ماڈل اپنانے سے پاکستان کی عالمی تمباکو مارکیٹ میں پوزیشن بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمباکو کو بھی دیگر زرعی اجناس جیسے گنا، کپاس، اور کینو کی طرح مارکیٹ پر مبنی پالیسیوں کے تحت معاونت دی جائے۔ برآمد کنندگان نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ موجودہ قوانین کے تحت سالانہ قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ لازمی ہے، جو برآمدی منڈیوں میں مسابقت پر اثر ڈال سکتی ہے۔
وزیر تجارت جام کمال خان نے ان تحفظات کو تسلیم کیا اور حکومت کے متوازن اور ترقیاتی پالیسیوں کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے ذریعے ریونیو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ صنعتی توسیع اور برآمدات میں اضافہ بھی ضروری ہے۔
جام کمال نے بتایا کہ مشروبات کے شعبے سمیت دیگر سیکٹرز نے بھی زیادہ ٹیکسوں کے صارفین کی مانگ اور ریونیو پر اثرات سے متعلق اسی نوعیت کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
برآمد کنندگان نے پاکستان ٹوبیکو بورڈ (پی ٹی بی) کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا تاکہ برآمدات کے فروغ اور پالیسی معاونت کے لیے مربوط کوششیں کی جا سکیں۔ اس پر وزیر تجارت نے دیگر شعبہ جاتی کونسلز کی طرز پر ایک ”سیکٹورل کونسل فار ٹوبیکو“ کے قیام کی تجویز دی تاکہ صنعت کے لیے ایک منظم اور نمائندہ پلیٹ فارم مہیا کیا جا سکے۔
وزیر تجارت نے مزید آگاہ کیا کہ ریونیو پالیسی کمیٹی کو محصولات جمع کرنے والے نظام سے آزاد کر دیا گیا ہے، جو پالیسی سازی کو زیادہ مشاورتی اور باخبر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
دریں اثنا، برآمد کنندگان نے حکومت کی تجارت کے فروغ کے لیے جاری کوششوں کو سراہا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ تمباکو کی صنعت روزگار، دیہی ترقی، اور برآمدی آمدن میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس شعبے کو اہدافی معاونت دی جائے تو تمباکو کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے جو قومی محصولات کے اہداف کو بھی سہارا دے گا۔
برآمد کنندگان نے جام کمال کا شکریہ ادا کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ حکومت کی مسلسل حمایت سے تمباکو کی صنعت اپنی عالمی موجودگی کو نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہے۔
رواں مالی سال (جولائی تا اپریل) کے دوران پاکستان کی تمباکو برآمدات 158.35 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جن میں بیلجیئم، یو اے ای، یونان، اور فلپائن جیسے اہم بازاروں میں مثبت پیش رفت دیکھی گئی ہے۔


Comments
Comments are closed.