BR100 Increased By (0.62%)
BR30 Increased By (0.87%)
KSE100 Increased By (0.4%)
KSE30 Increased By (0.38%)
BAFL 58.70 Increased By ▲ 0.26 (0.44%)
BIPL 25.50 Increased By ▲ 0.30 (1.19%)
BOP 34.34 Increased By ▲ 0.35 (1.03%)
CNERGY 8.17 Increased By ▲ 0.06 (0.74%)
DFML 20.97 Increased By ▲ 0.13 (0.62%)
DGKC 195.50 Increased By ▲ 2.53 (1.31%)
FABL 89.90 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
FCCL 53.41 Increased By ▲ 0.58 (1.1%)
FFL 18.08 Increased By ▲ 0.13 (0.72%)
GGL 19.55 Increased By ▲ 0.58 (3.06%)
HBL 286.21 Increased By ▲ 0.71 (0.25%)
HUBC 215.16 Increased By ▲ 0.78 (0.36%)
HUMNL 10.93 Increased By ▲ 0.05 (0.46%)
KEL 8.13 Increased By ▲ 0.11 (1.37%)
LOTCHEM 27.52 Decreased By ▼ -0.37 (-1.33%)
MLCF 87.13 Increased By ▲ 0.62 (0.72%)
OGDC 322.79 Increased By ▲ 2.83 (0.88%)
PAEL 39.80 Increased By ▲ 0.38 (0.96%)
PIBTL 17.36 Increased By ▲ 0.69 (4.14%)
PIOC 269.00 Increased By ▲ 2.94 (1.11%)
PPL 229.00 Increased By ▲ 0.82 (0.36%)
PRL 34.83 Increased By ▲ 0.15 (0.43%)
SNGP 99.50 Increased By ▲ 0.32 (0.32%)
SSGC 27.02 Increased By ▲ 0.42 (1.58%)
TELE 8.63 Increased By ▲ 0.35 (4.23%)
TPLP 8.62 Increased By ▲ 0.40 (4.87%)
TRG 69.65 Decreased By ▼ -0.06 (-0.09%)
UNITY 11.71 Increased By ▲ 0.04 (0.34%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
اداریہ

آئی ایم ایف اور نجکاری

شائع May 20, 2025 اپ ڈیٹ May 20, 2025 10:50am

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جاری کردہ پہلی اسٹاف سطح کی رپورٹ میں 20-2019 سے 2030 تک نجکاری سے حاصل ہونے والی آمدن کو صفر قرار دیا گیا ہے (رپورٹ میں 2030 سے آگے کی پیشگوئیاں شامل نہیں تھیں)، تاہم رپورٹ میں حکومت کی اس عزم کو اجاگر کیا گیا ہے کہ منافع بخش سرکاری تجارتی اداروں (ایس او ایز) کی نجکاری کو ترجیح دی جائے گی، بشرطیکہ نجکاری کی درجہ بندی کا عمل مکمل ہو۔

نجکاری کی درجہ بندی تاحال مکمل نہیں ہو سکی، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان اداروں کے درمیان فرق کرنا باقی ہے جو کہ اسٹریٹیجک اور لازمی سمجھے جاتے ہیں (اور اس لیے نجکاری کی فہرست میں شامل نہیں کیے گئے) اور وہ ادارے جو ایسے نہیں ہیں۔ ایک سال قبل، مئی 2024 میں، اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (سی سی او پی) نے 40 اداروں کو اسٹریٹیجک اور لازمی کے طور پر درجہ بند کرنے کی سفارش کی تھی، 84 اداروں کو نجکاری کے لیے زیر غور لایا گیا تھا جو کہ ایس او ای ایکٹ اور پالیسی کے تحت آتے ہیں، اور 18 اداروں کو نجکاری پروگرام میں شامل نہ کرنے کی وجوہات معلوم کی گئی تھیں۔

سی سی او پی نے مزید ہدایت کی کہ ان 40 اداروں کی درجہ بندی متعلقہ وزارت کو توثیق کے لیے بھیجی جائے۔ جب یہ عمل مکمل ہو جائے گا تو متعلقہ وزارت کو کہا گیا کہ وہ اس معاملے کو کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی ادارے (سی سی او ایس او ای)، جس کی صدارت وزیر خزانہ کرتے ہیں، کے سامنے رکھے۔ پھر یہ معاملہ دوبارہ سی سی او پی کے پاس آئے گا جو نجکاری پروگرام کو حتمی شکل دے گی۔

وزارت اطلاعات کی ویب سائٹ پر موجود رپورٹ کے مطابق، کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی ادارے کا اجلاس 11 فروری 2025 کو چیئرمین محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقد ہوا (اس سے قبل کسی اجلاس کا ریکارڈ موجود نہیں ہے)۔ اجلاس میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ مالیاتی استحکام بہتر بنانے کے لیے خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے؛ اور ایم/ایس الوریز اور مارسال مڈل ایسٹ کی سربراہی میں کنسورشیم کے ساتھ تین تقسیم کار کمپنیوں(ڈسکوز) کی نجکاری کے لیے فنانشل ایڈوائزری سروسز کا معاہدہ سائن کیا گیا۔ ان کمپنیوں میں فیصل آباد، گوجرانوالہ، اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کارپوریشنز شامل ہیں۔

اس اجلاس میں چار ریلوے کمپنیوں (جن میں ریلوے فریٹ ٹرانسمیشن کمپنی بھی شامل ہے) کی درجہ بندی سے متعلق کابینہ کے فیصلے پر عملدرآمد، ان کے بزنس پلانز اور ٹرانزیشن پلانز کی پیشکش پر بھی غور کیا گیا۔

اگرچہ حکومتی و بیوروکریٹک نظام میں کام کی رفتار روایتی طور پر سست ہوتی ہے، تاہم یہ تاخیر انتہائی تشویش کا باعث ہے، کیونکہ ہر آنے والی حکومت نے یہ وعدہ کیا ہے کہ نجکاری سے حاصل شدہ رقم سے سرکاری قرضہ اتارا جائے گا، مگر اس کے برعکس تقریباً ایک کھرب روپے ہر سال ان اداروں کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے بجٹ میں رکھے جاتے ہیں۔

نجکاری کمیشن (پی سی) کی اس کام کو انجام دینے کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ گزشتہ سال پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کی کوشش متعلقہ فریقین کے لیے باعثِ شرمندگی بنی، جب اُس وقت کے چیئرمین، علیم خان، نے اس ناکامی کا الزام اپنے پیشرو، عبوری وزیر برائے نجکاری فواد حسن فواد پر عائد کیا۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق نجکاری کمیشن نے پی آئی اے کی نجکاری کے لیے سی سی او پی کو لین دین کے ڈھانچے کی سفارش کی ہے، جس میں ایکویٹی کی منتقلی اور حصول کو بولی کے عمل کے دوران فائنلائز کیا جانا ہے۔

پہلے تجویز تھی کہ بولی کا عمل اکتوبر میں شروع کیا جائے گا، مگر وزیر اعظم نے اسے جون میں کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ معلومات یقیناً آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کی گئی تھیں، جس کے باعث آئی ایم ایف نے متعدد اسٹریٹیجک معاملات، بالخصوص پی آئی اے میں ہونے والی پیش رفت کو تسلیم کیا؛ تاہم یہ پیش رفت اتنی کافی نہیں تھی کہ آئی ایم ایف رپورٹ میں کسی نجکاری آمدن کا ذکر کرتا۔

وزراء کی طرف سے بیک وقت کئی اہم ذمہ داریاں سنبھالنا اور متعلقہ مہارت یا تجربے کی کمی بھی اس تاخیر کی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے؛ تاہم دیانت داری سے دیکھا جائے تو پاکستان ابھی تک سرمایہ کاری کے لیے سازگار ملک کے طور پر ابھرا نہیں ہے، اور جب عالمی ریٹنگ ایجنسیاں ہمیں نچلی ترین سرمایہ کاری گریڈ میں بھی نہیں رکھتیں تو سرمایہ کاروں کو نجکاری عمل میں شامل کرنا ایک نہایت مشکل کام ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.