کرنٹ اکائونٹ کا سرپلس برقرار ہے، درآمدات میں اضافے اور ترسیلاتِ زر میں ماہانہ کمی کے باوجود اپریل 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ معمولی سرپلس میں رہا اور 1 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا سرپلس درج کیا گیا۔ مالی سال 2025 کے ابتدائی دس ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ کا مجموعی سرپلس 1.9 ارب ڈالر رہا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 1.3 ارب ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب درآمدات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے شپمنٹ ڈیٹا کے مطابق اپریل 2025 میں درآمدات 5.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں — جو اگست 2022 کے بعد سے سب سے زیادہ ہیں۔ درآمدی طلب میں اضافے کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، کیونکہ عالمی سطح پر اجناس کی قیمتیں کم ہیں اور درآمدی حجم بڑھ رہا ہے۔
مالی سال 2025 کے ابتدائی دس ماہ میں سب سے زیادہ اضافہ ٹیکسٹائل گروپ میں ہوا، جہاں چینی مصنوعات کی ڈمپنگ اور مقامی سپلائی چین پر غیر موافق ٹیکسیشن پالیسی کی وجہ سے خام مال کی درآمد میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ٹرانسپورٹ شعبہ بھی سرگرم ہو رہا ہے، کیونکہ گاڑیوں کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے اور صارفین کو متنوع آپشنز دستیاب ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے ادائیگیوں کی بنیاد پر دیے گئے ڈیٹا کے مطابق درآمدات 5.24 ارب ڈالر رہیں، جو سالانہ 18 فیصد اور ماہانہ 6 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ شرح سود میں کمی کے اثرات بتدریج طلب اور اعتماد کی بحالی میں مدد دے رہے ہیں۔ کاروباری سرگرمیوں میں جہاں ضرورت ہو توسیع کی جا سکتی ہے، اور صارفین بھی دوبارہ اختیاری خرچ شروع کر سکتے ہیں۔
اس رجحان کے ابتدائی آثار سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ چونکہ اجناس کی قیمتیں کم ہیں اور ترسیلاتِ زر میں مستحکم اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے ایک محتاط درآمدی اضافہ قابل برداشت ہے۔ اسٹیٹ بینک غیر ضروری درآمدی طلب کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بالواسطہ نگرانی کر رہا ہے۔ بینک ٹریژریز کے ذریعے انٹربینک نظام کے اندر مالی بہاؤ کا نیا نظم متعارف کرایا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی خاموش، غیر رسمی پالیسی پر مکمل عملدرآمد ہو رہا ہے، جس کے تحت بینک صرف اتنی ہی درآمدی طلب کو پورا کر رہے ہیں جتنی کہ وہ برآمدات اور ترسیلاتِ زر کی آمدنی سے میچ کر سکیں۔

اسی لیے کچھ بینک سرکاری سبسڈی کے علاوہ اپنی جیب سے بھی ترغیبی رعایتیں دے رہے ہیں تاکہ ترسیلاتِ زر کو اپنی طرف راغب کر سکیں — جتنی زیادہ آمدنی، اتنا ہی زیادہ درآمدی کاروبار (ایل/سی پر مبنی) بینک سنبھال سکتے ہیں۔ یہ بینک نہ صرف کاروباری مسابقت میں مصروف ہیں بلکہ اس سے غیر رسمی ہنڈی و حوالہ نظام کا حصہ بھی مزید سکڑ رہا ہے۔
ترسیلاتِ زر کی شاندار کارکردگی اس تمام صورتحال کو تقویت دیتی ہے۔ مارچ میں یہ ترسیلات بلند ترین سطح 4.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، تاہم اپریل میں سیزنل عوامل کے باعث 3.2 ارب ڈالر تک کم ہو گئیں۔ توقع ہے کہ مئی اور جون میں، عید الالضحیٰ سے متعلق رقوم کی منتقلی کے باعث، ترسیلات میں دوبارہ اضافہ ہوگا۔ مجموعی طور پر، مالی سال کی ابتدائی دس ماہ میں ترسیلاتِ زر 31 فیصد اضافے کے ساتھ 31.2 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔

رواں سال، یہ ترسیلات اشیا و خدمات کی مشترکہ برآمدات کے 91 فیصد کے برابر ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ترسیلاتِ زر اس وقت معیشت کی سب سے بڑی قوت بن چکی ہیں، اور ان میں اضافہ صارفین کی طلب کو مہمیز دے رہا ہے، کیونکہ زیادہ تر رقوم اہل خانہ کی روزمرہ ضروریات کے لیے بھیجی جاتی ہیں۔
برآمداتِ اشیاء میں اضافہ محدود ہے — یہ درآمدات کا مقابلہ نہیں کر پا رہیں اور تیزی سے بڑھتی ہوئی ترسیلاتِ زر کے سائے میں دب چکی ہیں۔ اپریل 2025 میں برآمدات 2.6 ارب ڈالر رہیں — جو سالانہ 1 فیصد اور ماہانہ 6 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔ مالی سال کی ابتدائی دس ماہ میں اشیاء کی برآمدات میں صرف 7 فیصد اضافہ ہوا، اور مجموعی حجم 27.3 ارب ڈالر تک پہنچا۔
سال بھر برآمدات میں بڑھوتری کا رجحان مستقل رہا ہے، تاہم چاول کی برآمدات میں پہلے جو تیزی دیکھی گئی تھی، وہ اب کم ہو رہی ہے۔ چاول کی برآمدات 17 فیصد کمی کے ساتھ 2.6 ارب ڈالر تک محدود ہو گئی ہیں۔ ٹیکسٹائل کے شعبے میں نِٹ ویئر، بیڈ ویئر، تولیے اور تیار ملبوسات میں دوہرے ہندسے میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، لیکن کاٹن یارن اور کاٹن کلاتھ کی برآمدات مسلسل کمی کا شکار ہیں۔
یارن اور کپڑے کی صنعتیں بحران کے دہانے پر ہیں، کیونکہ چین سے سستا خام مال درآمد ہو رہا ہے، اور چینی ٹیکسٹائل و دیگر مصنوعات کی پاکستانی مارکیٹ میں ڈمپنگ کی جا رہی ہے۔ برآمدکنندگان کو ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کے تحت درآمدات پر کیش فلو کا فائدہ بھی حاصل ہے — جس کی وجہ سے مجموعی ٹیکسٹائل برآمدی اضافہ محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
اس کے باوجود، توقع ہے کہ مالی سال 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال سازگار رہے گی، کیونکہ عالمی اجناس کی قیمتیں نچلی سطح پر برقرار رہنے کی توقع ہے اور ترسیلاتِ زر میں تیزی کا رجحان جاری رہے گا۔
تاہم، اصل مسئلہ فنانشل اکاؤنٹ کا ہے، جو مسلسل خسارے میں ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ کے تمام فوائد کو زائل کر رہا ہے۔ مالی سال 25 کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران فنانشل اکاؤنٹ کا خسارہ 1.6 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 4.2 ارب ڈالر سرپلس میں تھا۔ گزشتہ سال بہتر آمدنی کی وجہ حکومت کو حاصل زیادہ بیرونی معاونت تھی، جو کہ 2.0 ارب ڈالر رہی — جبکہ رواں سال یہ معاونت منفی 100 ملین ڈالر ہو گئی ہے۔
نتیجتاً، مالی سال کی ابتدائی دس ماہ میں ادائیگیوں کے توازن کا سرپلس گھٹ کر 42 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہ گیا ہے، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 2.4 ارب ڈالر تھا۔
زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 10.5 ارب ڈالر رہ گئے تھے، تاہم آئی ایم ایف کی قسط موصول ہونے کے بعد ان میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو توقع ہے کہ جون کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ اس سے روپے پر دباؤ میں کمی اور رواں سال کے اندر مزید مانیٹری ایزنگ (شرح سود میں نرمی) کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.