غزہ میں اسرائیلی حملے میں 100 افراد شہید، مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی
- حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالثوں کی میزبانی میں مذاکرات کا ایک نیا دور جاری ہے
اسرائیلی فضائی حملوں میں گزشتہ رات کے دوران غزہ کی پٹی میں کم از کم 100 فلسطینی شہید ہو گئے۔ ادھر اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالثوں کی میزبانی میں مذاکرات کا ایک نیا دور جاری ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے فوری طور پر ان حملوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا، تاہم اس نے غزہ میں کارروائیاں تیز کرتے ہوئے جمعرات سے سینکڑوں افراد کو شہید کیا ہے، جو کہ ایک نئے زمینی حملے کی تیاری ہے تاکہ غزہ کے بعض علاقوں پر ’عملی کنٹرول‘ حاصل کیا جا سکے۔
غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان خلیل الدقران نے رائٹرز کو فون پر بتایا کہ ہمارے پاس رات سے اب تک کم از کم 100 شہدا ہیں۔ اسرائیلی بمباری سے مکمل خاندان رجسٹری ریکارڈ سے مٹ گئے ہیں۔
مارچ کے آغاز سے اسرائیل نے غزہ میں طبی، غذائی اور ایندھن کی فراہمی بند کر رکھی ہے تاکہ حماس پر دباؤ ڈال کر یرغمالیوں کو رہا کرایا جا سکے، اور وہ ایسے منصوبے کی منظوری دے چکا ہے جس کے تحت مکمل غزہ پر قبضہ اور امداد کی تقسیم پر کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے۔
حماس کا کہنا ہے کہ وہ صرف جنگ بندی کے بدلے یرغمالی رہا کرے گی۔
ثالث مصر اور قطر جنہیں امریکہ کی حمایت حاصل ہے، ہفتے کے روز سے بالواسطہ مذاکرات کا نیا دور شروع کر چکے ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
دوحہ میں ہونے والے ان مذاکرات کے حوالے ایک فلسطینی اہلکار نے کہا کہ حماس یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے لچک دکھا رہی ہے، لیکن مسئلہ ہمیشہ اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی یقین دہانی پر رہا ہے۔
برطانوی اداروں اسکائی نیوز عربیہ اور بی بی سی نے اطلاع دی ہے کہ حماس نے دو ماہ کی جنگ بندی اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے اپنے تقریباً نصف یرغمالیوں کو رہا کرنے کی پیشکش کی ہے۔
حماس کے ایک اہلکار نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا مؤقف بدستور سخت ہے۔ وہ اپنے قیدیوں کی رہائی چاہتے ہیں، لیکن جنگ ختم کرنے کی کوئی یقین دہانی نہیں دے رہے۔
اسرائیل کے ایک رات کے حملے میں خان یونس کے ایک خیمہ کیمپ کو نشانہ بنایا گیا، جہاں بے گھر خاندان رہائش پذیر تھے۔ حملے میں خواتین اور بچے شہید ہوئے، درجنوں زخمی ہوئے اور کئی خیمے جل کر خاکستر ہو گئے۔
حماس نے اس حملے کو ایک اور بہیمانہ جرم قرار دیا اور امریکی حکومت کو اس کی ذمہ دار ٹھہرایا۔
اتوار کو شہید ہونے والوں میں تین صحافی اور ان کے خاندان بھی شامل تھے۔ میڈیکل حکام کے مطابق شمالی غزہ میں ایک خاندان کے کم از کم 20 افراد شہید ہوئے۔
اسرائیل نے گزشتہ اکتوبر میں سابق حماس سربراہ یحییٰ السنوار کے بھائی زکریا السنوار اور ان کے تین بچوں کو مرکزی غزہ میں ایک حملے میں شہید کر دیا۔ زکریا غزہ کی ایک یونیورسٹی میں تاریخ کے استاد تھے۔
غزہ کا صحت کا نظام اسرائیلی حملوں اور اسپتالوں پر چھاپوں کے باعث شدید متاثر ہے۔ امدادی سامان کی ناکہ بندی نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں، جس سے بھوک میں اضافہ ہوا ہے، جس کا الزام اسرائیل حماس پر عائد کرتا ہے۔
خلیل الدقران نے کہا کہ اسپتال زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے بھر چکے ہیں، جن میں کئی بچے شامل ہیں، متعدد مریضوں کی ٹانگیں کاٹنی پڑی ہیں۔ اسپتالوں پر بارہا حملے کیے جا چکے ہیں اور اب وہ طبی سامان کی شدید قلت کا شکار ہیں۔
اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ غزہ کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر حملے کر رہی ہے تاکہ اپنے جنگی مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔
اسرائیل کا اعلان کردہ مقصد حماس کی عسکری اور حکومتی صلاحیتوں کو ختم کرنا ہے، جس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیلی بستیوں پر حملہ کر کے تقریباً 1,200 افراد کو ہلاک اور 250 کو یرغمال بنا لیا تھا۔
اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے غزہ کو تباہ کر دیا ہے، تقریباً تمام رہائشیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا ہے اور غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک 53,000 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔


Comments
Comments are closed.